Showing posts with label سفر نامہ. Show all posts
Showing posts with label سفر نامہ. Show all posts

Tuesday, October 26, 2010

ترکی کا سفر:ڈاکٹر خواجہ اکرام



قسطنطنیہ کی حسین وادیاں اور اس کی تاریخی وتہذیبی وراثتیں
تربتِ ایوب انصاری سے آتی ہے صدا
اے مسلماں!ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر

قسطنطنیہ جسے آج ترکی کے نام سے جانا جاتا ہے۔دنیا کے چند بڑے شہروں میں اس کا شمار ہے۔اسے مسجدوں کا شہربھی کہاجاتاہے کیونکہ ہر ایک میل کے فاصلے پرشاندار مسجدیں ہیں۔ مسجدوں کی اتنی بہتات کے بعد بھی کوئی مسجد نمازیوں سے خالی نہیں رہتی۔ان مساجد کا طرز تعمیر بھی بالکل مختلف ہے۔ اس طرح کی مسجدیں ہم نے پہلی دفعہ دیکھیں۔ان تمام مساجد کا آرکی ٹیکٹ ایک جیسا ہے۔ ایک بڑا گنبد اور اس کے ارد گرد متعدد چھوٹے گنبد۔ یہ عثمانی دور کے مشہور آرکی ٹیکٹ "سنان" کی ایجاد ہے۔ اس طرز تعمیر کا مقصد یہ تھا کہ امام یا خطیب کی آواز گنبدوں سے ٹکراتی ہوئی دور تک چلی جائے۔ جب لاوؤڈ اسپیکر ایجاد نہیں ہوا تھا، اس وقت مسلمان انجینئروں نے اس انداز سے اس کی تعمیر کی تھی کہ دور کے سامعین تک امام کی آواز پہنچ جائے ۔

یہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس شہر کو سات پہاڑوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ شہر سات پہاڑوں کے حلقے میں واقع ہے۔ بحر اسود، بحیرہ مرمرہ اور ٓبنائے باسفورس یہ تین سمندر اس شہر کے حُسن میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔یہ دنیا کا واحد شہر ہے جس کا نصف حصہ یوروپ اور نصف ایشیا میں ہے۔ یہ شہر عظیم اسلامی تاریخ کا روشن باب بھی ہے۔اس شہر کو قدرت نے حسن کی دلفریبیاں عطا کی ہیں۔ ظاہری حسن کے علاوہ یہ روحانی فیوض و برکات سے بھی مالا مال ہے۔ میزبان رسول حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مزار مبارک بھی اسی شہر میں ہے۔ حرمین شریفین کے بعد ترکی میں یہ مقام سب سے اہم اور متبرک سمجھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور خاندان اہل بیت کے مقدس تبرکات کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصائے مبارک ، حضرت یوسف علیہ السلا م کی پگڑی اور قرآن کریم کے کئی نادر نسخے یہاں موجود ہیں۔دنیا میں سب سے بڑے گنبد کی مسجد بھی یہیں موجود ہے۔ ترکی کو یہ اعجاز بھی حاصل ہے کہ دنیا بھر میں تصوف اور صوفیانہ روایات کے حوالے سے سب سے زیادہ پڑھے اور سمجھے جانے والے مولائے روم کا مزار مبار ک بھی یہیں ہے ۔

اس شہر کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ قسطنطنیہ330ءسے395ءتک رومی سلطنت اور 395ئ1453ءتک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت رہا اور 1453ءمیں فتح قسطنطنیہ ( قسطنطنیہ 29 مئی 1453ءکو سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں فتح ہوا۔ صدیوں تک مسلم حکمرانوں کی کوشش کے باوجود دنیا کے اس عظیم الشان شہر کی فتح عثمانی سلطان محمد ثانی کے حصے میں آئی جو فتح کے بعد سلطان محمد فاتح کہلائے۔)کے بعد سے1923ءتک سلطنت عثمانیہ کا دارالخلافہ رہا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس شہر کا نام اسلام بول رکھا ( جس کا مطلب ہے اسلام کا بول بالا )جو کہ آہستہ آہستہ استنبول میں تبدیل ہو گیا۔ شہر یورپ اور ایشیا کے سنگم پر شاخ زریں اور بحیرہ مرمرہ کے کنارے واقع ہے اور قرون وسطی میں یورپ کا سب سے بڑا اور امیر ترین شہر تھا۔ اس زمانے میں قسطنطنیہ کو شہروں کی ملکہ کہا جاتا تھا۔( بحوالہ ویکیپیڈیا) یہ شہر آج بھی ترقی یافتہ اور خوشحال ہے۔ فی کس مجموعی ملکی پیداور بارہ ہزار امریکی ڈالر ہے۔2010 ءکے لیے استنبو ل کو یوروپ کا مشترکہ تہذیبی دارالحکومت منتخب کیاگیا ہے۔ یہ واحد مسلم ملک ہے جو ناٹو کا رکن بھی ہے اور یوروپی یونین میں شامل ہونے کی دعویداری بھی رکھتا ہے۔یہ ملک اس لیے بھی مثالی ہے کہ اپنے تمام انتشار پر قابو پا کر ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

ترکی کے انھیں مقامات کے مطالعے اور احباب سے ان کی تفصیلات سنتے سنتے دل میں یہ خواہش بسی ہوئی تھی کہ کاش اس ملک دلفریب اور شہر جانفزا کی زیارت نصیب ہوجائے ، سو اللہ نے دل کی یہ مراد پوری کی۔اللہ کا بے حد و حساب شکر کہ اسلامی تاریخ میں جس شہر کا ذکر باربار سنا اور پڑھا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ ایک بین الاقوامی ورکشاپ میں شرکت کی دعوت پردہلی سے ہم اور ڈاکٹر رضوان الرحمان اسسٹنٹ پرفیسر، سنٹرن فار عربی اینڈ افریقن اسٹڈیز ، 23مئی کو دہلی سے بذریعہ ترکش ائیر لائن صبح کی 4.45بجے استنبول کے لیے روانہ ہوئے۔ دل میں حسرت تھی کی جلد از جلد حضرت ایوب انصاری کے شہر میں پہنچیں ، لیکن سفر کی طوالت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ، اس کی ا یک وجہ یہ بھی تھی عام طور پر جہاز پر بیٹھنے کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ چند گھنٹوں میں ہی منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے ، مگر براہ راست پرواز سے بھی یہ سات گھنٹے کا سفر تھا۔ ڈاکٹر رضوان ایک تجربہ کار سیاح ہیں اس لیے جانے سے پہلے بار بار ہمیں یاد دلاتے رہے کہ22 کی رات ختم ہوتے ہی ایک بجے ہم لوگوں کو نکلنا ہے۔

کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بارہ بجے رات کے بعد کہیں جانا ہو تو اگلی تاریخ ہی یاد رہتی ہے اور میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا بھی ہے کہ ایک دن بعد یا ایک دن پہلے ہی اسٹیشن یا ایئر پورٹ پہنچ گیا ہوں۔ ڈاکٹر رضوان کی بار بار کی تاکید نے سنیچر کی رات کو سونے بھی نہیں دیا اور سو بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ ایک ڈیڑھ بجے گھر سے ائیر پورٹ کے لیے نکلنا تھا۔ کہیں نیند نہ آجائے ،اور اس خیال سے بھی کہ جب تک گھر سے نکل نہیں جاتے ہیں ، گھر والے بھی سو نہیں سکیں گے۔لہٰذا ہم ڈیڑھ بجے ہی ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوگئے۔ ائیر پورٹ پر ہم جیسے ہی ترکش ائیر لائن کے کاؤنٹرپر پہنچے ڈاکٹر رضوان کے ایک ریسرچ اسکالر مل گئے جو یہاں ترجمے کے حوالے سے کام کرتے ہیں۔ انھوں نے تمام کاروائی بھی جلد مکمل کرا دی اور ہمیں اپنے آفس میں چائے بھی پلائی۔اب ہمارے پاس وقت بہت تھا۔ہم لوگ امیگریشن کے بعد لانج میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ وہاں جے این یو کے پروفیسر دیپک سے ملاقات ہوئی۔ کچھ دیر ان سے بات کرکے وقت نکل گیا ، لیکن وہ ہم سے پہلے چین کے سفر پر روانہ ہوگئے۔

بعد ازاں ہم نے کہیں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ ہم تھوڑی دیر ہی سکون سے بیٹھے تھے کہ ایک قافلہ اسی جگہ ورود ہوا۔ پہلی نظر میں انھیں دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ایک خاندان کے تقریبا ًبیس پچیس احباب مقدس سفر پر جارہے ہیں۔ زیارت حرمین شریفین کے لیے وہی جاتے ہیں جن کی قسمت اوج پر ہوتی ہے۔ ہم نے بڑے احترام سے بیچ کی کرسی خالی کر کے کنارے جگہ لے لی تاکہ یہ سب لوگ ایک جگہ بیٹھ جائیں ، مگر معذرت کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ان کے لوگوں کے بیٹھتے ہی ایک ایسا ماحول بنا جیسے یہ عمرہ کے لیے نہیں بلکہ گرمی کی چھٹی گزارنے کہیں جارہے ہوں۔ نہ کسی کے لب پر دعا اور نہ کسی کے اندر سنجیدگی سب کے سب اپنے ساتھ لائے کھانے کے پیکٹ کھول کر کھانے پینے میں مشغول ہوگئے۔ یہ کوئی بُری بات نہیں تھی لیکن بری بات یہ تھی کہ جہاں کھایا ڈبہ وہیں پھینکا اورچائے ، کولڈ ڈرنکس لے کر آگئے۔ میں نے بار بار اس صفائی کرنے والے کی چہرے کی ناگواری کو دیکھا جو ان کے پھینکے ہوئے ڈبوں کو بڑی ناگواری سے اٹھا رہا تھا اور بیچ بیچ میں اس قافلے میں شامل نوجوانوں اور خواتین کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں یہ بتا رہی تھیں کہ محض دو تین میٹر کی دوری پر ڈسٹ بین موجود تھا مگر انھوں نے اتنی بھی زحمت نہیں کی۔

آس پاس کے لوگ بھی ان کی تیز تیز آواز میں گفتگو کرنے سے پریشان ہوکر کسی او ر نششت پر جا بیٹھے۔ میں دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک مقدس سفر پر جانے والے اگر اس طرح کا سلوک اوررویہ رکھیں گے تو لوگ کیا سوچیں گے۔؟ مجھے ان کے رویے سے افسوس اور صدمہ پہنچا۔ڈاکٹر رضوان بھی پہلو بدل رہے تھے ۔ اتنے میں ترک ہوا یلاری کا اناؤنسمنٹ ہوا اور ہم جہاز پر سوار ہونے کے لیے گیٹ نمبر چار سے روانہ ہوئے۔ ٹھیک وقت پر روانگی ہوئی۔ جب فضا کی بلندیوں پر پہنچ کر جہاز پُرسکون ہوا تو ترکی طرز کا ناشتہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد غنودگی طاری ہوئی کچھ دیر کے لیے ہم سوگئے۔

لیکن جب گھڑی دیکھی تو معلوم ہوا ابھی تو صرف دو گھنٹے ہی گزرے ہیں۔ ابھی ہمیں پانچ گھنٹے اور بھی انتظار کرنا ہے۔ جہاز جس سمت کو پرواز کر رہا تھاوہ ویسٹرلی ہواؤں کا رخ تھا اس لیے رفتار سست تھی اوردہلی سے استنبول جانے میں ایک گھنٹہ زائد وقت لگتا ہے اس کے بر عکس واپسی میں صرف چھ گھنٹے میں دہلی پہچنتے ہیں۔ ہماری گھڑی میں اس وقت تقریبا ًسات بج رہے تھے۔ ہم جیسے جیسے آگے کی طرف بڑھ رہے تھے ویسے ویسے صبح ہورہی تھی ہر جگہ ایک ہی جیسا وقت معلوم ہو رہا تھا۔ آسمان اس قدر صاف تھا اور دھوپ اتنی تیز تھی کہ باہر نظر نہیں ٹھہر رہی تھی۔ جہاز کے عملے نے کھڑکی کے شٹر بند کرادئے تھے تاکہ جو سونا چاہیں انھیں تیز روشنی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن ہم لوگوں کو چونکہ ٹو سیٹر پہ جگہ ملی تھی اس لیے تھوڑا شٹر کھول کر دیکھنے کی کوشش مگر تیز دھوپ کے سبب باہر دیکھنا محال تھا لہٰذا کچھ دیر بند کمرے کی طرح ائیر کرافٹ میں آنکھیں بند کیے دعائیں پڑھتے رہے۔ ہمارے ایک دوست جن کا نام نہیں لکھ سکتا کیونکہ وہ مشہور شخصیت کے مالک ہیں اور ساری دنیامیں لوگ انھیں جانتے ہیں بالخصوص ہندستان اور پاکستان میں بڑی تعداد جو ان کی صلاحیتوں کااحترام کرتے ہیں ، کئی دفعہ ان کے ساتھ ہوائی سفر کا اتفاق ہوا ہے۔ زمین پر جس بہادری سے رہتے ہیں اسی بہادری اور بے باکی سے ان کا قلم بھی چلتا ہے مگر ہوائی جہاز پر اُن کا ہواس گُم رہتا ہے۔ انھوں نے ایک دفعہ مجھ سے کہا کہ انسان ہوائی جہاز پر ہی موت سے زیادہ قریب رہتا ہے۔ ان کی بات یاد کر کے ہم بھی استغفار اور دعائیں پڑھتے رہے۔ہم نے جب اپنی گھڑی کی جانب دیکھا تو 11بج رہے تھے۔

ائیر کرافٹ میں سونے والے مسافروں کی بڑی تعدادایک نیند پوری کر کے اٹھ چکی تھی۔ ائیر ہوسٹس مشروبات و دیگر اشیا کے ساتھ ضیافت میں مشغول تھیں ، تب ہم نے کھڑکی کے شٹر کھول دیئے جب باہر کی جانب دیکھا توصاف و شفاف فضا تھی اس لیے باہر کے مناظر بالکل صاف دیکھائی دے رہے تھے۔خوبصورت پہاڑوں کے اوپر سے ہم گزر رہے تھے کہیں ہرے بھرے پہاڑ تو کہیں مٹیالے رنگ کے نشیب و فراز کے درمیان چھوٹے چھوٹے شہر نظر آرہے تھے ، کہیں پہاڑوں پر برف کی سفید چادر بچھی تھی انھیں مناظر کے درمیان ایک وسیع و عریض نیلے رنگ کا جھیل نظر آیا جو پہاڑوں کے درمیان ایک حسین نظارہ پیش کر رہا تھا۔ ہم نے ایک فلائٹ اسسٹنٹ جو اتفاق سے ہمارے سامنے سے گزر رہے تھے ، پوچھا یہ کونسی سی جھیل ہے۔ انھوں نے لا علمی کا اظہار کیا لیکن جب ہمارا اشتیاق دیکھا اور یہ جملہ سُنا کہ آپ روز اسی کے اوپر سے گزرتے ہیں اور آپ کو معلوم نہیں ؟تو انھوں نے بتایا کہ یہ بن جھیل ہے اورہم ترکی کے حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہر طرف جھیل اور پہاڑ چادر کی طرح بچھے ہوئے تھے ، چائے کی چسکیوں کا ہم مزہ ہی لے رہے تھے کہ ترکی میں دور دور پھیلے شہر نظر آنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں پائلٹ نے اعلان کیاکہ ہم اتاترک ائیر پورٹ پر لینڈ کر نے والے ہیں۔تمام مسافر اپنی اپنی سیٹ بیلٹ باندھ چکے تھے۔اب ہمارا جہاز سمندر کے اوپر تھا اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آرہا تھا ، ایسا لگا کہ اسی سمندر پر لینڈ کر جائے گا۔ یہ بحیرہ مر مرہ تھا ، بالکل اسی کے کنارے اتاترک ائیر پورٹ واقع ہے۔

الحمد للہ ہم بخیر و خوبی پہنچ گئے۔ ائیر پورٹ پر داخل ہوتے ہی ہم نے امیگریشن فارم کی تلاش کی لیکن معلوم ہو ایہاں ایسی کوئی فار ملِٹی کی ضرورت نہیں۔ ایک لائن سے کئی کاؤنٹر بنے ہوئے تھے ہم بھی ایک کاؤنٹر پر کھڑے ہو گئے۔ سوچا یہاں بھی کافی وقت لگے گا کیونکہ کچھ ہی دنوں قبل جدہ ائیر پورٹ کا تلخ تجربہ تھا جہاں تقریباً دو گھنٹے باہر نکلنے میں لگے تھے۔ مگر یہاں تو کاؤنٹر پر پاسپورٹ دیا الیکٹرونک مشین میں اسے سوئپ کیا اورمسکراتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہہ کر باہر جانے کا شارہ کیا۔ ہماری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ آج کل سیکورٹی کے نام پر مسافروں کے ساتھ کیا کیا نا زیبا حرکتیں نہیں ہوتیں۔ اس معاملے میں سُنا ہے امریکہ نمبر ون ہے اس کے بعد شاید جدہ ائیر پورٹ ہی ہو۔ پہلے فارم بھریں ، پھر لائن میں کھڑے شاہی انداز سے ان کے کام کرنے کے انداز کو دیکھتے رہیں ، ان کی بے مروتی اور حقارت آمیز رویے کو بر داشت کریں۔ ایسا کہ جیسے ساری دنیا میں وہی اشرف المخلوقات ہیں اور باقی لوگ ان کے خادم یا اس سے بھی بد تر ہیں۔ خیر یہاں کا رویہ دیکھ کرخوشی ہوئی۔

انتہائی خوبصورت ائیر پورٹ سلیقہ مند اور سلجھے ہوئے لوگ۔ کچھ ہی دیر میں ہماری نظر رحمت پر پڑی جو تختی پر ہمارا نام لیے ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی انھوں نے بتایا کہ وہ فاتح یونیورسٹی سے بی۔ اے کر رہے۔ انھوں نے ہمیں زمین دوز میٹرو کی جانب چلنے کو کہا۔ ائیر پورٹ کے اندر اندر ہی ہم میٹرو میں سوار ہوئے کچھ دیر بعد یہ میٹرو سرنگ سے باہر نکل کر شہر میں دوڑ رہی تھی۔ بہت صاف ستھری اور خالی جگہیں دیکھ کر ہم جلدی سے بیٹھ گئے ، کیونکہ ہمیں دہلی میٹرو کی بھیڑ بھاڑ کا اندازہ تھا۔ رحمت ہماری تیزی کو بھانپ گئے کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے رہنے والے تھے اور ممبئی دہلی سے اچھی طرح واقف تھے ، انھوں نے کہا یہاں اتنی بھیڑ نہیں ملے گی اس لیے کہیں بھی اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ کچھ دیر بعد ہم ایک اسٹیشن پر اترے اور وہیں سے ٹرام لی۔ یہ ٹرام بھی بہت خوبصورت او ر صاف ستھری تھی۔ چار پانچ اسٹیشن کے بعد فندیق زادہ پر اترے۔ اسٹیشن کے سامنے ہی کایاہوٹل تھا جہا ں ہمیں قیام کرنا تھا۔ کشادہ سڑک درمیان میں ٹرام کی مخصوص جگہ اور دونوں جانب چوڑی سڑکیں لیکن فووٹ اور بریج بھی بنا تھا۔ انھوں نے بتا یا کہ یہی ہوٹل ہے جہاں قیام کرنا ہے اور فوٹ اور بریج پر چڑھنے لگے ، میں نے کہا اس کی کیا ضروت ہے سڑک کراس کر لیتے ہیں۔

لیکن ہمیں بتایا گیا کہ اگر پولیس نے دیکھ لیا تو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ فندیق زادہ ترکی کے یوروپی حصے میں واقع تھا۔پہلی نظر میں جو ہم نے سڑکوں کی صفائی اور آمد و رفت کے انتظام دیکھے وہ ہر لحاظ سے قابل تعریف اور ہمارے لیے حیرت کا سبب تھا۔ سڑکیں ایسی کہ سڑک پر بیٹھ جائیں بالکل گھر جیسی صفائی۔ خیر ہم ہوٹل میں داخل ہوئے ہمارے لیے کمرے پہلے ہی سے بُک تھے۔ کمرے پہ پہنچ کر ہی ہمیں بھوک کا احساس ہونے لگا تھا کیونکہ رات بھر کا سفر اور اس وقت ہماری گھڑی میں دن کے دو بج رہے تھے۔جبکہ ترکی کی گھڑی کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ جب میں نے رحمت سے دوپہر کے کھانے کی بات کی تو تعجب کے ساتھ انھوں نے ہماری جانب دیکھا، لیکن جب ہم نے ہندستانی ٹائم بتایا تو انھوں نے ہمارے میزبان عثمان اولانا سے بات کی انھوں نے اسکندریہ ریسٹورینٹ لے جانے کو کہا اور یہ بھی بتادیا کہ ہمیں ترکی کی مشہور غذا ‘ دونئر ’ کھلانا ہے۔ نزدیک ہی وہ ریسٹورینٹ تھا ، ریسٹورینٹ پہنچ کر اندازہ ہوا کہ واقعی ہم پہلے بھوکے ہوئے لوگ داخل ہوئے ہیں۔

دونئر بنانے میں وقت لگ رہا تھا جب تک ریسٹورینٹ کے دستور کے مطابق تین طرح کا نان ایک بڑا دوسرا اس سے چھوٹا اور مزے میں الگ ، تیسرا بالکل چھوٹا جس کے اوپر قیمہ رکھ کر بیک کیا گیا تھا، اس کے ساتھ سلاد وغیرہ ٹیبل پر رکھ دیا گیا اور ہم گرم گرم نان دیکھ کر ٹوٹ پڑے اور تیزی سے کھانے لگے۔ شاید ریسٹورنیٹ مالک کو اندازہ ہو گیا کہ یہ نئے مسافر ہیں اور انھیں معلوم نہیں ہے۔ اس لیے وہ ہماری ٹیبل کے پاس آکر ترکی میں ہمارے میزبان سے مسکراتے ہوئے کچھ کہا اورچلے گئے۔ تب رحمت نے بتایا کہ جب تک دونئر تیار ہو رہا ہے اس وقت تک کے لیے یہ اسٹارٹر ہے لہٰذا آہستہ آہستہ کھائیں ایسا نہ ہو کہ دونئر کے آتے آتے آپ کاپیٹ ہی بھر جائے۔ چونکہ ریسٹراں میں ہم پہلے شخص تھے اس لیے انھیں تیاری میں کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا اور جب تک دونئر آتا ہم تقریبا شکم سیر ہوچکے تھے۔ خیر دونئر بھی کھایا اور مزے لے کر کھایا۔ یہ شاورما کی طرح ہی ہلکی آنچ پر گوشت کے بھونے ہوئے تراشے تھے اور ساتھ میں ساس اور سلاد۔ کھانے کے بعد ہم پر غنودگی طاری ہوئی اور ہم سو گئے رحمت کچھ دیر کے لیے کسی کام سے باہر گئے تھے۔ ترکی میں یہ ہمارے لیے بہت لمبا دن تھا کیونکہ جب ہم ساڑھے بارہ بجے پہنچے تو یہاں نو بج رہا تھا اور شام ساڑھے آٹھ بجے ہوئی۔رحمت کے آتے ہی ہم نے خواہش ظاہر کی کہ آج ہم فری بھی ہیں اور وقت بھی تو کہیں گھوم کر آجائیں۔ وہ ہمیں ترکی کی مشہور جگہ نیلی گنبد کی مسجد لے گئے۔یہ سلطان احمد مسجد نیلی مسجد کے نام سے معروف ہے۔ترکی زبان: Sultanahmet Camiiکہتے ہیں۔

اسے بیرونی دیواروں کے نیلے رنگ کے باعث نیلی مسجد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ترکی کی واحد مسجد ہے جس کے چھ مینار ہیں۔1616ءمیں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔اس مسجد میں دس ہزار لوگوں کی گنجائش ہے۔ لمبائی 72 میٹر ، چوڑائی 64 میٹر۔ گنبد کی اونچائی 43 میٹر اور قطر 33 میٹر ہے۔ وکیپیڈیا کے مطابق جب تعمیر مکمل ہونے پر سلطان کو اس کا علم ہوا تو اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ اُس وقت صرف مسجد حرام کے میناروں کی تعداد چھ تھی لیکن چونکہ مسجد کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اس لیے مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ مسجد حرام میں ایک مینار کا اضافہ کرکے اُس کے میناروں کی تعداد سات کر دی گئی۔ مسجد کے مرکزی کمرے پر کئی گنبد ہیں جن کے درمیان میں مرکزی گنبد واقع ہے مسجد کے اندرونی حصے میں زیریں دیواروں کو ہاتھوں سے تیار کردہ 20 ہزار ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے جو ازنک (قدیم نیسیا) میں تیار کی گئیں۔ دیوار کے بالائی حصوں پر رنگ کیا گیا ہے۔ مسجد میں رنگین اور منقش شیشے کی 200 سے زائد کھڑکیاں موجود ہیں تاکہ قدرتی روشنی اور ہوا کا گذر رہے۔ مسجد کے اندر اپنے وقت کے عظیم ترین خطاط سید قاسم غباری نے قرآن مجید کی آیات کی خطاطی کی۔ مسجد کے طرز تعمیر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ نماز جمعہ کے موقع پر جب امام خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مسجد کے ہر کونے اور ہر جگہ سے امام کو با آسانی دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ مسجد کے ہر مینار پر تین چھجے ہیں اور کچھ عرصہ قبل تک مؤذن اس مینار پر چڑھ کر پانچوں وقت اذان دیتے تھے۔ آج کل اس کی جگہ صوتی نظام استعمال کیا جاتا ہے جس کی آوازیں قدیم شہر کے ہر گلی کوچے میں سنی جاتی ہے۔ نماز کے وقت یہاں مقامی باشندوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوتی ہے۔ رات کے وقت رنگین برقی قمقمے اس عظیم مسجد کے جاہ و جلال میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔( بحوالہ وکیپیڈیا)۔

مسجد کے احاطے خوبصورت پھولوں اور درختوں کے قطار سے سجے تھے۔صفائی ایسی کہ ناقابل بیان۔ جگہ جگہ فوارے لگے ہوئے تھے۔ یہاں ہم نے خوش رنگ گلاب کو دیکھا جو پودے کے بجائے چھوٹے پیڑ سے لگے ہوئے تھے۔آج تک ہم نے گلاب کا ایسا بانسائی نما درخت نہیں دیکھا تھا۔ طرح طرح کے پھول ہمیں اپنی جانب دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ہر طرف سیاحوں کی بھیڑ بھاڑ تھی لیکن نماز کا وقت ہوتے ہی مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔نماز کے وقت سیاحوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔مسجد کی دوسری جانب ایا صوفیہ ہے لیکن ہم اس شام ایا صوفیہ نہیں جاسکے۔ دوسرے دن اپنی مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد اپنے میزبان عثمان اولانا کے ساتھ ایا صوفیہ گئے۔ ایاصوفیا کی عظیم عمارت عیسائیوں نے چرچ کے طور پر بنائی تھی۔ (یہ ایک سابق مشرقی آرتھوڈوکس گرجا ہے)۔ لوگ اسے چوتھی صدی عیسوی کی تعمیر بتاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت کی کوئی تعمیر صحیح سالم نہیں بلکہ اس کی تعمیر نو یا مرمت کی جاتی رہی ہ ے۔ کہا جاتا ہے کہ حوادث کے نذر ہوجانے کے بعد قسطنطین اول کے بیٹے قسطنطیس ثانی نے اسے تعمیر کیا تاہم 532ءمیں یہ گرجا گھربھی فسادات و ہنگاموں کی نذر ہوگیا۔ اسے جسٹینین اول نے دوبارہ تعمیر کرایا اور 27 دسمبر 537ءکو یہ مکمل ہوا۔یہ گرجا اشبیلیہ کے گرجے کی تعمیر تک ایک ہزار سے زیادہ سال تک دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھررہا۔ایاصوفیہ متعدد بار زلزلوں کا شکار رہا جس میں 558ءمیں اس کا گنبد گرگیا اور 563ءمیں اس کی جگہ دوبارہ لگایا جانے والا گنبد بھی تباہ ہوگیا۔ 989ءکے زلزلے میں بھی اسے نقصان پہنچا۔1453ءمیں قسطنطنیہ کی عثمانی سلطنت میں شمولیت کے بعد ایاصوفیہ کو ایک مسجد بنادیا گیا اور اس کی یہ حیثیت 1935ءتک برقرار رہی۔ سلطان محمد فاتح نے 1453ءمیں استنبول کو فتح کیا تو سلطان نے اس کے اندر جمعہ کی نماز پڑھی اور حکم دیا کہ اسے بدل کر مسجد کی صورت دے دی جائے۔اس وقت سے یہ عمارت مسجد کے طور پر استعمال ہونے لگی۔ اس کے بعد مصطفی کمال اتاترک کی حکومت آئی۔ انہوں نے 1934 میں ایک نیا حکم نافذ کیا۔اس کے تحت ایا صوفیہ کو میوزیم(عجائب گھر) قرار دے دیاگیا۔ فروری 1935 میں میوزیم کے طور پر اس کے دروازے کھولے گئے۔ایاصوفیہ کو بلاشک و شبہ دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔لاطینی زبان میں اسے Sancta Sophia اور ترک زبان میں Ayasofya کہا جاتا ہے۔اس کے خوبصورت گنبد کا قطر 31 میٹر (102 فٹ) ہے اور یہ 56 میٹر بلند ہے۔

اس کے بعد ہم توپ کاپی میوزیم گئے جہاں قدیم ترک حکومتوں کے آثار ہیں۔ لیکن اس کی سب بڑی اہمیت مقدس تبرکات کے سبب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات موجود ہیں ، لیکن سب سے زیادہ اس میوزیم میں ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس مطہر ، دندان مبارک ، تلورا اور نعلین مبارک موجود ہیں۔ حضرت فاطمہ کو جہیز میں ملا قرآن پاک کا جزدان ، ردائے مبارک، حضرت امام حسن اورامام حسین ،حضرت علی اور خلفائے راشدین کی تلواریں اور دیگر اشیا کے علاوہ عصائے موسیٰ ،حضرت یوسف علیہ السلام کی پگڑی اور بہت سے تبرکات ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان تبرکات کی زیارت نصیب ہوئی۔

توپ کاپی سے نکلتے ہی نماز ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔ ہم پاس کی ایک قدیم مسجد میں نماز ادا کرنے گئے۔ یہ بہت پرانی مسجد تھی کئی صدی پہلے کی مسجد تھی لیکن اندر اور باہر سے ہر طرح جدید اس لیے تھی کیونکہ جدید سہولیات موجود تھیں۔ کسی مسجد میں یہ میرا پہلا احساس تھا کہ کچھ اور دیر تک مسجد میں ٹھہر جائیں اور مستقل نفل ادا کرتے رہیں۔ مسجد کے مین دروازے پر دبیز چمڑے کا پردہ تھا تاکہ اے سی کی ہوا باہر نہ جاسکے۔ اسی سے متصل وضو خانہ تھا۔ وضو خانہ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ انتہائی صاف ستھرا اور بیٹھنے کے لیے اونچی اونچی سنگ مرمر سے بنی کرسیاں ، سامنے آویزاں شیشے اور ٹیشو پیپر رکھے ہوئے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ عام طورپر گھروں کے ٹائلیٹس میں اتنی صفائی نہیں ہوتی۔ مسجد میں داخل ہوئے تو دل خوش ہوا۔دبیز سبز رنگ اور سرخ رنگ کی قالین بچھی ہوئی تھی۔ اتنی دیدہ زیب آرائش تھی کہ ہر طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ نماز سے فارغ ہوکر مسجد کا معائنہ کر رہا تھا تو دیکھا اوپر سے کچھ خواتین باہر نکل رہی ہیں ،میں نے اپنے میزبان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہاں ہرمسجد میں عورتوں کے نماز پڑھنے کے لیے خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ہم نے دیکھا کہ جدید طرز کا لباس پہنی ہوئی، سر پر حجاب لگائی ہوئی خواتین نماز ادا کر کے باہر نکل رہی ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ میری حیرت میں اس وقت اور بھی اضافہ ہوا جب امام صاحب کو دیکھا کہ وہ بھی جینس پینٹ اور شرٹ پہنے ہوئے ہیں۔ نماز کے وقت اوپر سے عبا پہن لیا اور گول ترکی ٹوپی لگا لی۔ مسجد سے باہر نکل کر سامنے ہی ٹرام کا اسٹیشن تھا۔ ہم ٹرام کے ذریعے ایوب سلطان پہنچے۔ وہاں ایک ریسٹورینٹ میں کھانے کے لیے بیٹھے۔ سامنے ہی سلطان ایوب مسجد تھی۔ کھانے کی ٹیبل پر میرے میزبان نے ایک بینر کی طرف اشارہ کیااور پوچھا آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے ؟ ظاہر ہے ہم دونوں نے جواب نفی میں دیا تو انھوں نے بتا یا کہ یہ غزہ میں مجبور اور مظلوم مسلمانوں کی امدا د کے لیے بینر لگا ہو اہے۔ اس کے بعد جو انھوں نے بتا یا وہ زیادہ حیرت انگیز تھا ، انھوں نے کہا کہ ترکی کے لوگ غزہ کے مسلمانوں کی بڑی مدد کرتے ہیں۔ اس بینر کے لگتے ہی چند ہی دنوں میں اتنے پیسے اور سامان آگئے کہ ایک جہاز میں نہیں بھیجا جاسکا۔

آپ جانتے ہیں یہ وہی فریڈم فلوٹیلا جہاز تھا جس پر اسرائیل نے وحشیانہ حملہ کیا تھا۔ جس کی ساری دنیا میں مذمت کی گئی ہے۔خیر پُر لطف ترکی کھانے کا مزہ لینے کے بعد ہم ایوب سلطان مسجد کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ وہی مسجد ہے جہاں میزبان رسول حضرت ایوب انصاری ؓ کا مزار مبار ک ہے۔ ایوب سلطان مسجد شاخ زریں کے قریب قدیم شہر قسطنطنیہ کی فصیلوں کے باہر واقع ہے۔ یہ جگہ استنبول شہر کے یورپی حصے کے موجودہ ضلع ایوب میں ہے۔ یہ مسجد 1453ءمیں عثمانیوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد 1458ءمیں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد عین اس جگہ تعمیر کی گئی جہاں صحابہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ 60ءمیں محاصرہ قسطنطنیہ کے دوران شہید ہو گئے تھے۔ ان کا مزار ترکوں کے لیے انتہائی مقدس و پُر عقیدت مقام ہے۔ اس کے اندر داخل ہونے کے لیے الگ دروازہ ہے اور نکلنے کے لیے الگ دروازہ ۔ مرداورخواتین ایک ہی دروازے سے داخل ہوتے ہیں۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو دیکھا بڑی تعداد میں ایک طرف ٹوپیاں رکھی ہوئی ہیں اور دوسری جانب ڈھیر سارے دوپٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ جو خواتین بغیر دو پٹہ کے جاتی ہیں انھیں دو پٹہ اوڑھنے کو دیا جاتا۔ہم بھی سلام کے لیے حاضر ہوئے۔ اطمینان سے فاتحہ پڑھا ، اطمینان اس لیے کہ ہندستان کی طرح وہاں مزاروں پہ ہنگامہ بر پا نہیں رہتا۔

اتنی جگہوں کی زیارت کے بعد ہم تھک چکے تھے اور اپنے میزبان کا بھی خیال رکھنا تھا اس لیے ہم ایوب سلطان سے سیدھے ہوٹل آئے۔ تھوڑی دیر آرام کیا۔ سوچا اب شام ہو گئی ہوگی۔ لیکن وہاں تو دن اتنا لمبا ہوتا ہے کہ ہم دن سے تھک گئے۔ ہوٹل سے باہر آئے او ر تھوڑی دیر ہم اور ڈاکٹر رضوان یوں ہی بلا وجہ گھومتے رہے۔ ہم بہت دیر تک فوٹ اور بریج پر کھڑے رہے۔ٹرام ، بس اور اپنی گاڑیوں سے آنے جانے والے لوگوں کو دیکھتے رہے۔ بہت غور کرنے کے بعد بھی ہم یہ پتا لگانے میں ناکام رہے کہ یہاں کون غریب ہے اور کون امیر۔ ہر شخص خوش لباس اور شاداں و فرحاں نظر آیا۔ عام طور پر ہمارے یہا ں لوگوں کو دیکھ کران کی حالت زار کااندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہندستان میں عام شاہراہوں پر یا ریلوے اسٹیشن پر کھڑے ہوجائیں تو امیر و غریب کا فرق معلوم ہو جائے گا۔ مگر اللہ کا شکر ہے ا س ملک میں کم از کم ایسی بات نہیں ہے۔ ہم نے بعد میں وہاں کے لوگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہو اکہ یہاں کے لوگ معاشی اعتبار سے خوشحال ہیں۔ ایک دن ہم اور ڈاکٹر رضوان خوش گپی کرتے ہوئے ترکی کے حالات پر تبصرہ کر رہے تھے کہ ڈاکٹر رضوان نے ہم سے کہا مجھے ترکی میں ایک شخص پر بڑارحم آتا ہے۔ میں نے پوچھا کون ؟ انھوں نے کہا کہ صرف ایک شخص ایسا ہے جو سڑکوں پہ کچھ ڈھونڈتا رہتا ہے اور اسے کچھ نہیں ملتا۔ میری حیرت بڑھی تو انھوں نے بتا یا کہ صفائی کرنے والے پہ ! مجھے ا س بات پر بے ساختہ ہنسی آئی اور واقعی غور کیا تو ایسا ہی لگا کہ صفائی کرنے والے مستقل کوڑے ڈھوندتے رہتے ہیں اسی لیے سڑکوں پہ کوئی گندگی نظر نہیں آتی۔ مغرب بعد ہمیں ہوٹل کے لابی میں آنے کو کہا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ حیدر آبا د سے انڈیا لاگ فاؤنڈیشن کی دعوت پر ایک گروپ آرہا ہے۔ ان کے ساتھ ہمیں رات کے کھانے کے لیے کہیں جاناتھا۔ شام کو جب لابی میں آئے تو حیدرآباد کے مہمانوں سے ملاقات ہوئی۔ اس گروپ میں اردو کے سنئر پروفیسر خالد سعید اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر جناب عابد عبد الواسع بھی تھے۔ پروفیسر خالد سعید صاحب کو میں پہلے سے جانتا تھا مگر عابد عبد الواسع سے پہلی ملاقات تھی۔ ان سے مل کر ایسا لگا جیسے برسوں سے شناسائی ہے۔

خیر ہم سب جناب عیسیٰ اور نورالدین صاحب کے ساتھ آبنائے باسفورس کے کنارے ایک شاندار ہوٹل میں پر تکلف عشائیہ میں شریک ہوئے۔ سمندر کے کنارے ، خوبصورت ہوٹل اور ترکی کی خوشگوارفضا میں یہ عشائیہ ایک یادگار بن گیا۔ رات ہوٹل میں سکون سے گزار ا۔ دسرے دن بھی وقت نکال کر ہم جناب عثمان اولانا کے ساتھ استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پہنچے۔ وہاں اردو کے اساتذہ سے ملاقات ہوئی۔ یونیورسٹی ہمارے ہوٹل سے نزدیک ہی تھا۔ لیکن شاید ہم تنہا یونیورسٹی نہیں جا سکتے تھے۔ کیونکہ وہاں کاجو نظام دیکھا طبعیت خوش ہوئی۔ کوئی بیرونی شخص اندر داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ کمپاؤنڈ میں کوئی کچھ شرارت کر سکتا ہے۔ ہمیں ڈیپارٹمنٹ سے فون آنے کے بعد باضابطہ شناخت کے ساتھ اندر جانے دیا گیا۔ جب یہ معلوم ہو اکہ یہاں شعبہ ارود میں تقریبا ً اسی طالبعلم ہیں تو خوشی ہوئی کہ اس شہر میں بھی اردو کی تعلیم ہوتی ہے۔ ا س کے بعد ہم فاتح یونیورسٹی گئے جو ایک پرائیوٹ یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی کے قیام کو ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا ہے لیکن جس انداز کی عمارت تھی اور جس طرح تعلیم دی جاتی ہے یہ جان کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ یہاں تعلیم کا معیار بہتر ہے۔ یہاں کئی پروفیسر ز سے ملاقات رہی۔ ترکی میں تقریبا ً سبھی لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ کیونکہ ہائی اسکول تک تعلیم حکومت کی جانب سے لازمی ہے اگر کوئی والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے تو انھیں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اسی طرح وہاں تما م شہریوں کے لیے لازم ہے کہ ایک خاص مدت شاید تین مہینے یا چھ مہینے کی آرمی ٹرینگ لینی ہوتی ہے۔ جب ہم انقرہ جارہے تھے تو دیکھا کہ ایک شخص کے ساتھ کئی لوگ ڈنکا بجاتے اورخوشی مناتے کسی کو چھوڑنے آئے تھے اس وقت ہمیں اس خوشی کا سبب معلوم نہیں ہوسکا ، ہم نے سوچا شاید کوئی فٹ بال کھلاڑی ہے۔ لیکن بعد میں معلوم ہواکہ وہ ٹرینگ کے لیے جا رہا تھا۔

استنبول میں اب تک کے قیام سے اندازہ ہو گیا تھا کہ ترکی کی شبیہ بدل رہی ہے۔ ترکی کو عام طورپر لوگ یوروپی طرز کے لیے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ لیکن اب وہاں کے لوگ اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ ہم نے وہاں دونو ں طرح کے لوگ دیکھے۔ ایک وہ جو مذہب کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں اوردوسرے جو مذہبی تو نہیں لیکن مذہب بیزار نہیں ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہندستان میں لباس اور داڑھی ٹوپی سے مذہبی شخص کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ لیکن ترکی میں ایسے تہجد گزاروں کو بھی دیکھا جن کے لباس اور حلیے سے ان کے مذہبی ہونے نہ ہو نے کا تعین نہیں کرسکتے۔ تقریباً لوگ داڑھی مونچھ نہیں رکھتے۔ لڑکیاں زیادہ تر جینس پینٹ اورٹی شرٹ پہنتی ہیں۔ جن کا جھکاؤ مذہب کی جانب ہے وہ سر پر حجاب باندھتی ہیں۔ نئی نسل جو مذہب کی طرف کم لگاؤ رکھتے ہیں وہ بڑے آزاد خیال ہیں ، لڑکے لڑکیوں میں اختلاط عام ہے بڑے بے تکلف ہوکر آپس میں ملتے ہیں۔ہر شاپنگ مال اور دوکان میں لڑکیوں کو کام کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ان کے معاشرے پر یوروپی طرز حاوی ہے۔ ہمارے ترکی دوست نے بتایا کہ کچھ برسوں کی ہی بات ہے کہ یونیورسٹی اور کالج میں لڑکیاں سر پر حجاب باندھ کر نہیں جاسکتی تھیں۔ لیکن اب جو باندھنا چاہتی ہیں ان پر کسی طرح کا دباؤنہیں ہے۔ ان تمام بے تکلفی اور آزاد خیالی کے بعد ہم نے ترکی میں جو چیز دیکھی وہ یقینا قابل ستائش ہے۔ طرح طرح کے لباس میں لڑکیاں ہر جگہ نظر آجاتی تھیں مگر کہیں کسی کو سیٹی بجاتے یا کسی کو جملہ کستے نہیں سنا۔ کئی دنوں تک تو ہم نے کسی پولیس والے کو کسی سڑک پر نہیں دیکھا ،یہاں تک کہ تاریخی عمارتوں کے آس پاس بھی پولیس کا سایہ نظر نہیں آیا ، ہمارے یہاں پولیس کی جو وحشت اور دہشت ہے وہ وہاں نظر نہیں آیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یہاں عام طور پر لوگ امن پسند ہیں اسی لیے ہمارے شہروں کی طرح ہر جگہ پولیس کی گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر نہیں آئیں۔

استنبول میں قیام کے تیسرے روز ہم ویو پوئنٹ دیکھنے گئے۔یہ ایشیائی حصے میں ہے ، یہ انھیں سات پہاڑوں میں سے ایک ہے ، جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے۔ یہ حصہ اب سیاحوں کی کشش کا مرکز بن چکا ہے۔یہاں سے استنبول کے یوروپی حصے کا حسین منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں سے نیلی گنبد کی مسجد ،ایا صوفیہ اور ساحل سمندر پر بسے شہر کے خوبصورت نظارے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں سے دیکھتے ہوئے جو چیز سب سے زیادہ باعث کشش ہے وہ یہاں کی سرخ اور مٹیالے رنگ کی ایک جیسی عمارتیں اور ہر جگہ مسجدوں کے بلنداور دیدہ زیب مینار ے اسلامی شان و شکوت کی منہ بولتی تصویر یں نظر آتی ہیں۔ استنبو ل سے جاتے ہوئے ہم اس تاریخی پُل سے گزرے جو یوروپ اور ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے یہ تقسیم کا علاقہ انتہائی خوبصورت ہے۔ پل اتنی اونچائی پر ہے کہ اس کے نیچے سے بڑے بڑے جہاز گزر سکتے ہیں۔ پل کے عین کنارے ایک انتہائی خوبصورت مسجد ہے جسے جہاز پر سوار ہوکر نزدیک سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس مسجد کا صحن عین سمندر میں واقع ہے۔ ویو پوائنٹ سے ہم اسکودر ، ایشائی جانب سمند رکا وہ کنارہ جہاں سے سیاح چھوٹے چھوٹے جہازوں پر بیٹھ کر سیر کرتے ہیں۔ ہم بھی اس کنارے پر پہنچے ہمارے لیے میزبانوں نے ایک خاص جہاز کا انتطام کر رکھا تھا۔

ہمارے ساتھ انڈیا لاگ کی جانب سے حیدر آباد سے آئے مہمان بھی تھے اور ہمارے دوست جناب عابد عبد الواسع بھی ہمرہی کا لطف بڑھارہے تھے۔ ہم اور عبدالواسع، ڈاکٹر رضوان ،پروفیسر خالد سعید ، وٹل راؤ،ستیہ پرکاش اور عثمان اولانا نے جہاز کے عرشیے پر ہی بیٹھنا پسند کیا۔ باقی لوگ جہاز کی نچلی منزل پر حسین مناظر کا لطف لے رہے تھے۔ ہوائیں اتنی تیز تھیں اورکشتی جس طرح ہچکولے لے رہی تھی کہ اوپر کھڑا ہونا مشکل تھا۔ لیکن ہم لوگ اس وقت کا انتظار کر رہے تھے کہ کشتی مسجد کے کنارے پہنچے تو ہم اس کی تصویر لے سکیں۔تقسیم بریج کراس کرتے ہی کچھ دوری سے گولڈن ہارن کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ یہ پرانے شہر کا منظر ہے۔ ہم لوگ تقسیم پُل کے پاس سے ہی واپس لوٹے اس کے بعد گرلز ٹاور دیکھنے گئے ۔ یہ سمندر کے بیچ ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے ۔ یہ اونچے مینار کی طرح بنا ہوا جس میں تین منزل ہے ۔ اس مینار کے بارے میں مشہور ہے کہ قدیم دور کے بادشاہ کو اس کے نجومی نے بتایاکہ آپ کی لڑکی موت سانپ کاٹنے سے ہوگی ۔ بادشاہ نے اس ڈر سے سمند کے بیچ اس کے لیے ایک گھر بنوایا ۔ ہر صبح اس کا معمول تھا کہ اپنی لڑکی کے لیے پھولوں کا گلدستہ بھیجتاتھا ۔ ایک دن اسی گلدستے میں ایک سانپ چھپا تھا ۔ کب لڑکی نے اس گلدستے کو لیا تو سانپ نے ڈس لیا اور اس کی مو ت ہو گئی ۔ اسی مناسبت سے اس ٹاور کو گرلز ٹاور کہا جاتا ہے۔

شام کی بس سے انقرہ کے لے روانہ ہوئے۔ یوں تو ہمیں قونیا جانا تھا لیکن ایک دن کا وقت تھا سوچا انقرہ دیکھتے جائیں۔ لہذا ہم نے ایشائی حصے سے انقرہ کی بس لی۔ یہاں کی بسیں بھی کیا خوب ہیں۔ ہر طرح کی سہولت کے ساتھ ساتھ انتہائی آرام دہ۔ہر سیٹ پر ٹیلی ویڑ ن اسکرین موجود تھی جس میں چھ سات چینل براہ راست آرہے تھے۔ استبول انقرہ روڈ خوبصورت پہاڑ کی وادیوں سے ہوکر گزرتا ہے راستے میں کئی جگہ ایسا محسوس ہو اجیسے ہم سرنگ سے گزر رہے ہوں کیونکہ دونوں جانب سے بلند ا ور ہر بھرے درختوں سے مزین پہاڑکھڑے تھے ، البتہ کچھ ہی دیر بعد ایک ایسے سرنگ میں ہماری بس داخل ہوئی جس کی لمبائی چار کیلو میٹر کے آس پاس تھی۔ پہاڑی سلسلوں کے درمیان کئی چھوٹے بڑے جھیل بھی قدرت کے حسین مناظرپیش کر رہے تھے۔ اس لیے ہم ٹی وی دیکھنے کے بجائے باہر کے نظارے سے لطف انداز ہو رہے تھے۔رات دس بجے انقرہ شہر میں داخل ہوئے۔ بس اسٹینڈ کی جانب جب ہماری بس جارہی تھی تو مجھے ایسا لگا جیسے غلط جگہ یہ بس داخل ہو رہی ہے کیونکہ یہ بس اسٹینڈ بالکل ائیر پورٹ جیسا تھا۔ دومنزلہ عمارت اور بہت ہی وسیع و عریض رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔بس اسٹینڈ کا نقشہ بالکل ائیر پورٹ جیسا تھا۔ ہم نے پہلی دفعہ ایسا بس اسٹینڈ دیکھا تو حیرت ہوئی۔ بس سے اُتر کر ہم اپنے میزبان کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں دو صاحبان آئے اور انھوں نے کہا “ اِ ندستانی ’ وہاں کے لوگ ہندستانی کو اندستانی کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہم ان کے ساتھ ہولیے۔ اکسیلیٹر کے ذریعے اوپری منزل پر گئے اور باہرنکل کر ان کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اسوقت مجھے یہ شعر یاد آیا اوربار بار ڈاکٹر رضوان کو سنا کر لطف لیتا رہا :

زبان ِیار ِمن ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہان ِ من

وجہ یہ تھی کہ جو دو صاحبان ہمیں لینے آئے تھے انھیں انگریزی بالکل نہیں آتی تھی ہم اشاراتی زبان میں کام چلا رہے تھے۔ ترکی میں مشکل یہ ہے کہ کم ہی لوگ ترکی کے علاوہ کوئی اور زبان جانتے ہیں۔ خیر ہم گیسٹ ہاؤس گئے اور رات آرام کیا۔ صبح ناشتے سے فارغ ہوکر شہر کی جانب جانے کا ارداہ تھا۔ اتفاق سے ایک ایسے صاحب مل گئے جنھیں عربی زبان آتی تھی ، ان سے ڈاکٹر رضوان نے عربی میں بات کر کے شہر کے بارے میں معلوم کرنا چاہا تاکہ کم سے کم وقت میں اور ایک ہی دن میں ہم لوگ انقرہ شہر دیکھ لیں۔ ہمارے ساتھ انڈیا لاگ کے ایک دوست انقرہ کے ایک اسکول دیکھانے لے گئے جو فتح اللہ گلین صاحب کی تعلیمی تحریک کے تحت قائم ہوا ہے۔ ان کی تعلیمی تحریک اتنی مضبوط ہے کہ اس پلیٹ فارم کے تحت پوری دنیامیں ہزاروں اسکول قائم ہیں جو بہترین تعلیم و تربیت کے مثالی ادارے ہیں۔اس اسکول کو دیکھا جہاں ہر طرح کی جدید سہولتیں دستیاب تھیں اور اسکول کیا ہمارے یہاں تو کارپوریٹ کے ایسے دفتر بھی نہیں ہوتے۔ بہت ہی خوبصورت اور جگہ جگہ قالین بچھی ہوئی ،کلاس روم میں تمام جدید تر آڈیو ویڈیو سہولیات ،انتہائی قابل اساتذہ۔ ان سے مل کر اندازہ ہو اکہ اسکول کا ایسا بھی معیار ہوتا ہے۔ اسی اسکول کے کینٹن میں ہم نے دوپہر کا لذیز کھانا کھایا۔ اس کے بعد میوزیم اور انقرہ کی مارکیٹ کی سیر کی۔ شہر کی جامع مسجد میں نماز پڑھی ہمارے ساتھ ایک ترک بزنس مین تھے جن کی گاڑی میں ہم گھوم رہے تھے ، یہ صرف ترکی زبان جانتے تھے اس لیے فاتح یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کو ہمارے مترجم کے طور پر ساتھ کر دیا گیا تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد منبر کے نزدیک ہی ہم کچھ دیر بیٹھے رہے۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ جس قالین پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں یہ مسجد نبوی میں ریاض الجنہ کی قالین ہے اور اس کی ساتھ سرخ رنگ کی قالین بھی مسجد نبوی سے تحفے میں یہاں آئی ہے۔

چونکہ مسجد نبوی کے لیے قالین یہیں سے بن کر جاتی ہے لہٰذا جب جب وہاں قالین تبدیل کی جاتی ہے تحفے میں یہاں قالین بھیجی جاتی ہے۔ اس کے برابر ہی واٹر کنٹینر رکھا تھا جس میں زمزم تھا ہم نے شکم سیر ہوکر زمزم بھی پیا۔ نماز کے بعد ہم نے ٹرالی میں سفر کرنے کا ارادہ بنایا۔ چونکہ انقرہ نشیب و فراز کا علاقہ ہے اس لیے اس ٹرالی پر سوار ہو کر شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ دو کیلو میٹر لمبے راستے پر ہم نے ٹرالی کا مزہ لیا۔ شام کو انقرہ کی ایک مسجد میں عصر کی نماز کے لیے رکے۔ اسی احاطے میں ایک بزرگ کا مزار ہے جو بہت ہی قدیم ہے۔ یہ مسجد کئی سو سال پُرانی تھی اس لیے وہاں مرمت کا کام چل رہا تھا۔ لیکن نمازیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو اس لیے عمدہ قسم کے شامیانے سے ایک عارضی مسجد بنائی گئی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس عارضی مسجد میں بھی تمام طرح کی سہولیات تھیں اوریہ عارضی مسجد بھی باضابطہ ایک مسجد تھی۔ اس پر اتنے پیسے خرچ کیے گئے ہوں گے کہ ہم اتنے میں ایک نئی مسجد بنا سکتے ہیں۔ خیر یہ ترکوں کی دریا دلی کا ثبوت ہے۔ البتہ یہاں مردوں او ر عورتوں کے لیے الگ لاگ عارضی مسجد تھی۔نماز کے بعد ہم مزار پر فاتحہ کے لیے حاضر ہوئے۔رات دیر گئے ہم گیسٹ ہاؤس واپس آئے۔علی الصباح قونیا کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ راستہ بھی ویسا ہی پُر بہار تھا ۔ راستے میں ہم نے دیکھا کہ ہر طرف سر سبز وشادب کھیتی کی زمینیں تھیں اور بیچ بیچ میں چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے۔ لیکن شاید انھیں گاؤں کہنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ ان کے مکانات بھی ویسے ہی خوبصورت تھے اور آنے جانے والی سڑکیں بھی نہایت عمدہ تھیں۔ چھوٹی سی آبادی کے بیچ بھی ایک مسجد ضرور تھی۔

قونیا پہنچ کر مولانا روم یونیورسٹی گئے۔ پروفیسر بہا ءالدین آدم وائس چانسلر اور سرہادتیکی لیوغلو جنرل سکریٹری سے ملاقا ت ہوئی انھوں نے اس یونیورسٹی کے قیام کے بارے میں ہمیں بتا یا کہ یہ ابھی ایک سال پُرانی یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی کے تعلیمی منصوبے کے بارے میں بتایا اور جب اس کی عمارت کی بات کی تو ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ اس یونیورسٹی میں ابھی تعمیر کا کام چل رہا تھا۔ انھوں نے یہ بتایا کہ یہ پوری عمارت اس سے پہلے ایک شاپنگ مال تھا۔ جسے ایک صاحب خیر نے یونیورسٹی کے نام پر وقف کر دیا ہے۔ یہ جان کر واقعی حیرت انگیز خوشی ہوئی کہ ایسے بھی لوگ ہیں جن کے اندر ایسا دینی جذبہ موجود ہے۔ اس کے بعد ہم نے جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر کھانا کھایا اور کچھ دیر بعد مولانا روم کے مزار پر حاضری کے لیے روانہ ہوئے۔ مولانا روم جن کو بار بار پڑھا اور تصوف کے حوالے سے جن کا ذکر بار بار سُنا ان کے دربار میں حاضری کی خوشی تھی ہم چاہ رہے تھے جلد پہنچ جائیں۔ بس میں بیٹھے دور سے ہی اس گنبد کو دیکھنا چاہتے تھے مگر سڑکوں پر ہر جگہ ہرے بھرے درخت تھے اس لیے دور سے گنبد نہیں دیکھائی دیا۔ جب ہماری بس رکی تو سامنے وہ گبند بھی تھا اور اس مولانا روم کے مزار کے احاطے کی وسیع و عریض مسجد کی دیواریں۔ ہم اندر داخل ہوئے۔اور پہلے مزار پر حاضری کے لیے پہنچے۔ اندر داخل ہوتے ہی مارہرہ مطہرہ کہ یاد آگئی۔ ایک ہی چھت کے نیچے بہت سارے مزار تھے۔ ہماری بائیں جانب کے مزارت پر سفید رنگ کی پگڑی اور دائیں جانب کے مزارت کے سرہانے سبز رنگ کی پگڑی بندھی تھی۔ ہم نے جب دریا فت کیا تو معلوم ہو کہ جو ان کے خاندان کے بزرگ ہیں ان کے مزار کے سرہانے سفید رنگ کی پگڑی ہے اور جو ان کے سلسلے کے بزرگ ہیں ان کے سرہانے سبز رنگ کی پگڑی ہے۔ اور دائیں جانب بالکل آخری حصے میں مولانا روم کا مزار تھا۔

یہ مزار تقریباً چھ فٹ اونچا اور آٹھ فٹ لمبا تھا۔ مزارپر قرآنی آیات لکھے ہوئے سبز رنگ کی چادر تھی اور سرہانے مزار پر ایک گول سا حصہ نکلا ہو ا تھا جس پر سفید رنگ کی پگڑی بندھی ہوئی تھی۔ زمین میں یہاں سے وہاں تک مزار سے بالکل متصل قالین بچھا ہوا تھا۔ یہاں فاتحہ پڑھنے کے بعد اسی احاطے میں آگے مولانا روم کے تبرکات تھے۔کچھ ان کے کپڑے، جبہ ،ٹوپی کے علاوہ ایک بہت ہی لمبی تسبیح تھی جو لکڑیوں سے بنی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ نئے ( بانسری نما آلہءموسیقی) مضراب اور دف۔ کچھ ہی دور کے فاصلے پر قرآن پاک کے کئی نادر نسخے اور مثنوی مولانا روم کے کئی نسخے تھے۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد ہم دوسرے کنارے پر ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے جہاں انسانی شکل کے کئی لوگوں کی شبیہ بنائی گئی تھی۔ ایک گول میز کے کنارے مولانا روم اور ان کے شاگرد تھے اور دوسری جانب ان کے خدام اور مطبخ تھا۔یہ دیکھ کر مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیوں بنایا گیا ہے۔ کسی نے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تو میں نے یہ قیاس کیا کہ شاید اس لیے ہو کہ یہاں ہمیشہ پوری دنیا سے لوگ مولانا روم کے مزار پر آتے ہیں اور مسلمانوں سے زیادہ غیر ملکی اور یوروپی آتے ہیں۔آج کے زمانے میں تصوف پر یوں بھی بہت زور ہے تو جو شخص بھی تصوف کے بارے میں کچھ جاننا یا پڑھنا چاہتا ہے تو وہ مولانا روم کو ضرور پڑھتا ہے۔ اس لیے شاید ان کی سمجھ کے لیے میوزیم کی طرز پر اس کو ڈیولپ کیا گیا ہو۔

قونیا کا صوفی رقص جو پوری دنیا میں مشہور ہے ، اسے وہاں دیکھنے کا موقع تو نہیں ملا مگر اس رقص کی تصویریں پورے قونیا شہر میں دیکھنے کو ملی۔مزار سے متصل ایک بازار ہے جہاں سے کئی چیزیں خریدیں اور حیرت اس بات پر ہوئی کہ ہمارے یہاں نظام الدین اولیا یا خواجہ غریب نواز کے مزار پر فاتحہ کے لیے جو لقم دانہ ملتا ہے ، ویسا ہی لقم وہاں ہر طرف بِک رہا تھا۔ لیکن وہاں کے لقم کا جو مزہ ہے وہ یہاں نہیں ہے۔ ترکی میں بھی اسے لقم ہی بولا جاتا ہے۔ وہاں کسی مزارپر پھول چڑھانے یافاتحہ کے لئے کچھ اندر لے جانے کی اجازت نہیں۔ مولانا روم کا مزار چونکہ ایک بڑی مسجد کے احاطے میں ہے اس لیے ان کے مزار کی چھت پر سبز رنگ کا ایک مینار بنا ہواہے۔ شام کو ہمارے میزبان جناب عصمت کھانے کے لیے ایک شاندار ریسٹراں لے گئے اور کہا کہ چلیں آج قونیا اور ترکی کی ایک مشہور ڈش کھلاتے ہیں۔ انھوں نے ترکی پیز ا کا آڈر دیا۔ کچھ ہی دیر میں پیز ا کے ساتھ لذیذ چٹنی ہمارے سامنے تھی۔ یہ پیز ا نان کی طرح تھا جس پر گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تھے واقعی بڑ ا لذیذ تھا۔ کھانے کے درمیان عصمت صاحب نے بتایا کہ اس پیزے کا ڈیمانڈ اب یوروپ میں بھی ہونے لگا ہے اور ترکی کے لوگ مغربی طرز کا پیزا کم ہی کھاتے ہیں۔ رات کے پُر لطف کھانے کے بعد ہم نے اگلے دن کے سفر کی فکر کیونکہ دوسرے دن ہی ہمیں شام کی فلائٹ سے دہلی کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ہم نے سوچا رات ہی کو بس سے استنبول کے لیے روانہ ہو جائیں۔ لیکن ہم کافی تھک چکے تھے اس لیے یہ مشورہ ہوا کہ صبح کی فلائٹ سے استنبول جائیں گے۔

لہٰذا جب ہم نے اپنے دوست عثمان اولانا کو جہاز کے ٹکٹ بک کرنے کی گزارش کی۔انھوں ٹکٹ بک کر کے پی این آر نمبر ایس ایم ایس کر دیا۔ اس کے بعد فون پر ہمیں بتا یا کہ جہاز کا ٹکٹ بس سے سستا ہے۔ بس کا کرایہ 80 ترکی لیرا تھا اور جہاز کا صرف 59 لیرا۔ یہ ہمارے لیے حیرت کی بات تھی۔ لیکن معلوم ہو اکہ لوگ بس سے زیادہ سفر کرتے ہیں اور دور کی بسیں بہت آرام دہ اور جہاز کی طرح چائے پانی کے علاوہ لنچ وغیرہ کا بھی باضابطہ اہتمام کرتے ہیں۔ خیر ہم صبح کی فلائٹ سے گیارہ بجے استنبول پہنچ گئے۔بھائی عثمان اولانا ہمار انتظار کررہے تھے۔ ان کے ساتھ انٹر نیشل ائیر پورٹ جانا تھا۔ لیکن ہمارے پاس وقت ابھی بہت تھا اس لیے وہ ہمیں ترکی کے مشہور اسپائس بازار لے گئے جو سلطان فاتح بریج جو یوروپی حصے پر واقع ہے۔ یہاں ہمیں کچھ پاکستانی لوگ اردو بولتے ہوئے ہمیں کچھ خریدنے کی دعوت دے رہے تھے۔ ہم نے پہلی دفعہ یہاں کسی کو اردو بولتے ہوئے سُنا۔ اس لیے ان سے رغبت ہوئی اور ان کی دوکانوں سے بچوں کے لیے کچھ تحائف خریدے۔ بھائی عثمان نے بھی ترکی کی مشہور چائے کی پیالی ( فنجان ) خرید کر تحفے میں ہمیں پیش کیا۔ اور 4 بجے ہم انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچ گئے۔ ترکی کو الوداع کہتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اس دعا کے ساتھ جہاز پر روانہ ہوئے کہ خد ا پھر سبیل پید اکرے اور ہم ترکی کی خوشگوار فضااور خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوسکیں۔
عالمی اخبار

Monday, October 25, 2010

ترکی میں نئی صبح کے آثار: عابد عبدالواسع



ترکی میں نئی صبح کے آثار
عابد عبدالواسع
پبلک ریلیشنز آفیسر
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد

’’میں ہر سال اپنی آمدنی کا تقریباً 50 فیصد حصہ خدمت خلق میں خرچ کرتا ہوں۔ بفضل تعالیٰ دولت مجھے ورثہ میں ملی ہے۔ مساجد کی تعمیر کے ذریعہ تسکین قلب حاصل کرسکتا تھا لیکن میری خواہش ہے کہ اسکولوں کے قیام کے ذریعہ ایسے بچوں کی مدد کی جائے جو معاشی طور پر کمزور ہیں۔‘‘ ان خیالات کا اظہار ترکی کے ایک صنعت کار اور کنٹراکٹر احمد اکایا نے انقرہ میں گذشتہ جمعہ کو حیدرآباد سے آئے مہمان وفد کے ہمراہ بات چیت کے دوران کیا۔ احمد اکایا سے وفد کے ایک رکن ڈاکٹر اے گوپال کرشنن نے دریافت کیا تھا کہ وہ ہر سال اپنی آمدنی کا کس قدر حصہ خدمت خلق پر خرچ کرتے ہیں۔ ترک تاجر کے جواب پر وفد میں شامل لگ بھگ تمام افراد حیرت زدہ رہ گئے۔ کیونکہ سبھی اس بات سے واقف تھے کہ اسلام میں سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی کا لزوم ہے۔ لیکن موجودہ ترکی میں آپ کو ایسے کئی تاجر‘ صنعت کار اور متمول افراد مل جائیں گے جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ نہایت خاموشی کے ساتھ راہ للہ خرچ کر کے رضائے الٰہی کے طلبگار ہیں۔
’’انڈیالاگ‘‘ فاؤنڈیشن نامی ادارے نے جو 2005ء سے ہندوستان میں بین مذہبی و تہذیبی مذاکرات اور قیام امن سرگرمیوں میں مصروف ہے 24 تا 31؍ مئی 2010ء اس خصوصی دورے کا اہتمام کیا تھا۔ حیدرآباد سے 12 منتخب افراد کو مدعو کیا گیا جن کا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق ہے۔ ’’بین مذہبی و بین تہذیبی سفرِ مذاکرات ۔ ترکی 2010ء‘‘ کے زیر عنوان اس دورے میں آندھرا پردیش اسمبلی کے سابق اسپیکر جناب سریش ریڈی‘ جناب نریندر لوتھر (سابق چیف سکریٹری آندھرا پردیش)‘ ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر جناب تراب الحسن (ڈاکٹر عابد حسین‘ سابق سفیر ہند برائے امریکہ کے برادر محترم) ‘ پروفیسر خالد سعید (صدر شعبۂ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی)‘ ڈاکٹر اے گوپال کرشنن (سابق صدر نشین اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ‘ حکومت ہند)‘ ڈاکٹر ستیہ پرکاش (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ کمیونکیشن‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ ڈاکٹر سنجے سبودھ (اسوسیئٹ پروفیسر شعبہ تاریخ‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ جناب وٹھل راؤ (صدر آریہ پرتینیدھی سبھا‘ آندھرا پردیش)‘ محترمہ سنگا مترا ملک (اعزازی سکریٹری‘ اپنا وطن)‘ محترمہ بندی لوتھر (شریک حیات‘ جناب نریندر لوتھر)‘ ڈاکٹر قرۃ العین حسن (کنسلٹنٹ ڈپارٹمنٹ آف جینیٹکس اینڈ مالیکیولر میڈیسن‘ کامنینی ہاسپٹل)‘ ڈاکٹر دلنواز برجور بھلاڈوالا (صدر شعبہ نیورو سرجری‘ کامنینی ہاسپٹل) کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ انڈیالاگ فاؤنڈیشن دراصل بین تہذیبی‘ بین الاقوامی و بین مذہبی مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کے دوروں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ ہمیں اس دورے نے ترکی اور وہاں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اقبال نے جس ترکی کو یوروپ کا مرد بیمار کہا تھا وہ اب بڑی تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہو رہا ہے۔ ترکی ایک طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ رہنے کے بعد اپنے وجود کو منوانے میں لگا ہے۔ ترکی‘ ناٹو کا واحد مسلم رکن ہے اور یوروپی یونین کا امیدوار رکن بھی ہے۔ ترکی معاشی طور پر ترقی یافتہ ہے۔ اس کی کرنسی لیرا کہلاتی ہے جو ہندوستان کے 30 روپئے کے برابر ہے۔ فی کس مجموعی ملکی پیداوار کا سالانہ تخمینہ 12,000 امریکی ڈالر ہے۔ جبکہ ہندوستان میں یہ تناسب سالانہ 2800 ڈالر ہے۔ ترکی میں گداگر کم ہی نظر آتے ہیں۔ قدرت نے اسے کئی قسم کی دولتوں سے نوازا ہے۔ حسن کی دولت سب سے نمایاں ہے۔ ترکی میں ہمیں استنبول‘ کونیا اور انقرہ جیسے شہروں میں مختلف افراد سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔
پیر 24؍ مئی 2010ء کی صبح 10:20 بجے ایمیریٹس ایئر لائنس کی پرواز کے ذریعہ ہمارا گروپ براہ دبئی استنبول روانہ ہوا۔ استنبول کے اتاترک انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے جب ہم باہر نکلے تو شام کے تقریباً 7 بج چکے تھے لیکن غروب آفتاب کے آثار نہیں تھے۔ ترکی‘ بالخصوص استنبول چونکہ جغرافیائی طور پر یوروپ کا حصہ ہے اسی لیے یہاں غروب آفتاب کافی دیر سے ہوتا ہے۔ ہمارے قیام کے دوران مغرب کی اذان رات 8:30 بجے ہوا کرتی تھی۔ یہ موسم گرما کے ابتدائی دن تھے۔ موسم کی شدت کے دوران اس وقت میں مزید توسیع ہوجاتی ہے۔ انڈیالاگ فاؤنڈیشن کے مقامی کو آرڈنیٹر نور الدین‘ وفد کے ہمراہ تھے۔ ایئر پورٹ پر جناب سریش ریڈی وفد میں شامل ہوگئے۔ (وہ پہلے ہی دبئی پہنچ چکے تھے۔) ایئر پورٹ کے باہر میزبان گروپ کے نمائندوں نے گرمجوشانہ خیر مقدم کیا اور بس کے ذریعہ ہمیں ہوٹل ’’کایا‘‘ پہنچادیا گیا۔ جو استنبول کے یوروپی حصے میں واقع ہے۔ اسی رات انڈو۔ترکش بزنس گروپ نے خلیج باسفورس کے ساحل پر واقع ریستوراں میں ڈنر کا اہتمام کیا۔ وہیں ہماری ملاقات دہلی سے آئے مزید دو مہمانوں سے ہوگئی۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام (اسوسیئٹ پروفیسر اردو‘ جواہر لال نہرو یونیورسٹی) اور ڈاکٹر رضوان الرحمن (اسسٹنٹ پروفیسر عربی‘ جے این یو) ایک بین الاقوامی ورکشاپ میں شرکت کے سلسلے میں ترکی آئے ہوئے تھے۔ ہمارے میزبانوں نے انہیں کچھ دن کے لیے حیدرآبادی وفد کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس طرح ہمارا گروپ ایک قومی نوعیت کا نمائندہ وفد بن گیا۔
منگل 25؍ مئی کی صبح ہوٹل میں ناشتے کے بعد ترکی کے ایک مشہور و مقبول ٹیلی ویژن گروپ ’’سمان یولو‘‘ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ اس گروپ کے تحت جملہ 6 چینل چلائے جاتے ہیں۔ اکین امرے کراغولے (انٹرنیشنل نیوز ایڈیٹر) نے استقبال کیا اور وفد کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گروپ میں شامل ڈاکٹر اے گوپال کرشنن‘ پیشے کے اعتبار سے نیوکلیئر سائنسداں ہیں اور امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ہاورڈ میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں۔ ایران کے نیوکلیئر تنازعے کے پس منظر میں ترکی کے اہم رول پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ تبادلہ خیال کے دوران جب ہمارے میزبان سے ڈاکٹر گوپال کرشنن کا تفصیلی تعارف ہوا تو انہوں نے نیوز چینل کے لیے انٹرویو کی فرمائش کردی۔ اسی دو پہر ہم استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع ’’ویو پوائنٹ‘‘ پہنچے جہاں سے خلیج باسفورس اور شہر کے یوروپی حصے کا نہایت دلفریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ استنبول دراصل ترکی کا سب سے بڑا اور بہ لحاظ آبادی دنیا کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ اس تاریخی شہر میں 12.8 ملین لوگ بستے ہیں۔ اس طرح یہ آبادی کے اعتبار سے یوروپ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے ترکی کے تہذیبی‘ معاشی اور مالیاتی مرکز کا بھی اعزاز ہے۔ یہ شہر صوبہ استنبول کے 39 اضلاع کا احاطہ کرتا ہے اور آبنائے باسفورس کے دہانے پر آباد ہے۔ قدرتی بندرگاہ جسے ’’گولڈن ہارن‘‘ (قرنِ طلائی) اسی کا حصہ ہے۔ دو بر اعظموں پر محیط دنیا کا یہ واحد شہر ہے۔ استنبول نے اپنی طویل تاریخ میں سلطنت روم‘ بازنطینی سلطنت‘ لاطینی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ (1453-1922ء) کے پایۂ تخت کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ سنہ 2010ء کے لیے استنبول کو یوروپ کا مشترکہ تہذیبی دارالحکومت منتخب کیا گیا ہے۔ استنبول کے تاریخی مقامات 1985ء میں یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل کیے گئے۔ ویو پوائنٹ سے خلیج باسفورس کے نظارے کے بعد دو پہر میں کشتی کے سفر کا پروگرام تھا۔ تیز ہواؤں کے بیچ خلیج باسفورس کی یہ سیر نہایت خوشگوار اور یادگار ثابت ہوئی۔ ہوا اس قدر تیز تھی کہ کشتی کے عرشے پر چلنا یا ٹھہرنا دشوار تھا۔ لیکن دونوں جانب کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے 4 تا 6 افراد عرشے پر ہی بیٹھے رہے۔
آبی گزرگاہ کی دونوں جانب استنبول کے یوروپی اور ایشیائی حصوں کا نظارہ نہایت دلفریب ہے۔ بالخصوص گنجان آبادی کے درمیان اپنے سر ابھارے مساجد کے مینار اس ملک میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت کا ثبوت ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ مساجد کی کثرت کے باوجود مصلیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسی دن ہم کو استنبول کے ایک اور تاریخی مقام ’’میدان ٹاور‘‘ کی بھی سیر کرائی جو گرلز ٹاور کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ ٹاور خلیج باسفورس میں یوروپ اور ایشیاء کے نکتہ اتصال پر واقع چھوٹے سے جزیرہ پر ہے۔ اسے استنبول کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا گواہ تصور کیا جاتا ہے۔ ٹاور کے تعلق سے کئی دلچسپ داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ منگل کی شام گروپ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا کیونکہ دو مختلف مقامات پر ترک خاندانوں نے ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ ہم جس گروپ میں تھے‘ اس کی ضیافت ایک ایسے خاندان کے سپرد کی گئی جہاں میاں‘ بیوی دونوں وکیل تھے۔ وحدت عروج اور ان کی بیگم نے نہایت پر تپاک انداز میں خیر مقدم کیا اور ذائقہ دار ترک پکوان کے ساتھ تواضع کی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ وحدت عروج کی بیگم‘ ایڈوکیٹ ہونے کے باوجود اپنے مکان میں مہمانوں کے روبرو اسکارف باندھے ہوئے اور سر تا پا ایک خوبصورت کوٹ میں ملبوس تھیں۔ اس خاندان میں دو ننھے بچے بھی تھے۔ وفد کے تمام ارکان ترک خاندان کی ضیافت اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ جناب وٹھل راؤ کے لیے خصوصی طور پر وجیٹیرین ڈش تیار کی گئی تھی۔ چہارشنبہ 26؍ مئی کی صبح استنبول کی مشہور ’’فاتح انٹر نیشنل یونیورسٹی‘‘ کے دورے کا موقع ملا۔ شعبۂ تاریخ کے سربراہ پروفیسر طوفان بزپینار اور کیمسٹری کے پروفیسر نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فاتح انٹرنیشنل یونیورسٹی ایک خانگی یونیورسٹی ہے جس کا قیام 1996ء میں عمل میں آیا۔ پروفیسر طوفان کے بموجب سلطان محمد دوم فاتح استنبول کو ترک عوام چونکہ اپنا محسن مانتے ہیں اسی لیے بیشتر ادارے ان سے منسوب ہیں۔ ترکی میں جہاں خواندگی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے سرکاری یونیورسٹیز کی تعداد 100 ہے۔ جبکہ خانگی جامعات جنہیں فاؤنڈیشن یونیورسٹی کہا جاتا ہے 50 کے قریب ہیں۔ پروفیسر حضرات نے اعتراف کیا کہ موجودہ دور میں سوشیل سائنسیس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ سماجی علوم کے محققین کو یونیورسٹی بھاری امداد فراہم کرتی ہے۔ جامعہ سے فارغ ہونے والے 98 فیصد طلبہ کو روزگار مل جاتا ہے۔ فاتح انٹرنیشنل یونیورسٹی نے یوروپ کی کئی جامعات کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے ساتھ بھی یادداشت مفاہمت ہو چکی ہے۔ 11 ہزار طلبہ میں 700 غیر ملکی ہیں۔ ترکی میں 13 سال کی عمر تک تعلیم سب کے لیے لازمی ہے۔ سرکاری جامعات‘ اعلیٰ سطح پر مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ خانگی یونیورسٹیز میں انٹرنس ٹسٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہے۔
فاتح یونیورسٹی کے دورے کے بعد ترکی کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ’’زمان‘‘ کے دفتر کا معائنہ اور سینئر ایڈیٹرس کے ساتھ تبادلہ خیال مقرر تھا۔ اخبار کے انتظامیہ نے اس ملاقات سے قبل پر تکلف ظہرانہ ترتیب دیا۔ بعد میں زمان اخبار کے فارن نیوز ایڈیٹر جلیل صغیر اور مشہور کالم نگار محمد کریم نے مہمان وفد کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترکی گذشتہ کئی دہائیوں کے انتشار کے بعد اب بتدریج مستحکم ہو رہا ہے۔ 1990ء کی دہائی تک ترکی میں سیاسی انتشار اور عدم استحکام تھا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ جو ان کے خیال میں ترک معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی بیداری کا نتیجہ ہے۔ دونوں سینئر صحافیوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کمال اتاترک کے سیکولر طرز حکومت نے ترک معاشرے کو زبردست نقصان پہنچایا۔ چونکہ سیکولرزم کے نام پر بعض مذہب بیزاروں نے تنگ نظری اور تعصب کی انتہاء کردی تھی۔ زمان میڈیا گروپ کے تحت ترک روزنامہ ’’زمان‘‘ شائع کیا جاتا ہے جس کی تعداد اشاعت 9 لاکھ ہے جو ترکی کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ ’’ٹو ڈے زمان‘‘ نامی انگریزی اخبار گذشتہ 3 برس سے کامیابی کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے جو ترکی کا سب سے بڑا انگریزی اخبار ہے۔ بین الاقوامی شہرت کی حامل نیوز ایجنسی ’’جیہان‘‘ اسی گروپ کی ملکیت ہے۔ ’’عکسیان‘‘ نیوز ویکلی کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ زمان گروپ یکم ؍ اکتوبر 2010ء سے ایک بین الاقوامی ماہنامہ شائع کر رہا ہے۔ محمد کریم نے دعویٰ کیا کہ زمان گروپ اپنی سماجی ذمہ داری بخوبی سمجھتا ہے اور اسے نبھارہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے کثیر مذہبی ورثہ کی ستائش کی اور وضاحت کی کہ وہ مذہب پسند ضرور ہیں لیکن اخبار و صحافت سیکولر ہیں۔ ترک سیاستدان بڑی حد تک روادار ہیں۔ لیکن فوج کا رویہ سخت گیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ترکی میں مذہبی بیداری کے نتیجے میں ’’سیکولر بنیاد پرستی‘‘ کا بتدریج خاتمہ ہو رہا ہے۔ ملک میں 1989ء تک خانگی ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلس کے قیام پر پابندی تھی۔ زمان گروپ کے دونوں سینئر صحافیوں نے بتایا کہ ترک عوام میں افقی اور عمودی تحریک پیدا ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں سے عوام بڑی تعداد میں شہر منتقل ہوئے ہیں۔ ممتاز عالم دین‘ دانشور اور امن کے علمبردار فتح اللہ گُلین کی تحریک نے سیاسی و دانشورانہ فکر کی تحریک میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ترک خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک معمول کے حالات کی بحالی کے ساتھ پڑوسی ممالک سے روابط میں بہتری اولین ترجیح ہے۔ ترکی ایک ایسا ملک ہے جس کے پڑوسیوں کی تعداد 8 ہے۔ ترکی میں اب فوج کی سیاسی اہمیت نہیں رہی۔ خارجہ پالیسی کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ قومی مفادات ایک طرف ہیں تو دوسری طرف حلیف ممالک کا مفاد ہے۔ سینئر ترک صحافیوں نے مصطفی کمال اتاترک کے دور میں اور ان کے انتقال کے بعد طویل عرصے تک موجود طرز حکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ اتاترک کو ’’خدا‘‘ اور حکمران جماعت کو مخصوص مفادات کا نگہبان بنادیا گیا تھا۔
تہذیبی ٹکراؤ کی نہیں‘ تہذیبوں کے اتحاد کی ضرورت
’’زمان‘‘ کے دفتر سے ہم سیدھے رائٹرس اینڈ جرنلسٹس فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچے جہاں اسماعیل طس اور احمد محرم نے استقبال کیا۔ اسماعیل طس‘ ڈائیلاگ یوریشیا کے جنرل سکریٹری ہیں جبکہ احمد محرم میڈیالاگ کے سکریٹری جنرل ہیں۔ تبادلہ خیال کے دوران احمد محرم نے ان کے ادارے کی مساعی کو تہذیبوں کے اتحاد کی ادنیٰ کوشش سے تعبیر کیا۔ اس کے ذریعہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ جناب احمد محرم نے ریمارک کیا کہ مذاکرات‘ زندہ رہنے کا واحد راستہ ہیں۔ ساری دنیا ایک کنبہ کی مانند ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ستیہ پرکاش نے ’’ہندوستان میں ذرائع ابلاغ‘‘ کے موضوع پر پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دیا۔ جو نہایت معلوماتی رہا۔ جناب سریش ریڈی نے فتح اللہ گُلین اور ان کی تحریک کی ستائش کی اور کہا کہ ایسی ہی تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے امن اور مذاکرات کے لیے حقیقی کوششیں کر رہے ہیں۔ چہارشنبہ کی رات بھی وفد دو گروپس میں منقسم ہوکر استنبول کے علیحدہ حصوں میں ترک خاندانوں کی ضیافت سے محظوظ ہوتا رہا۔
جمعرات کی صبح استنبول کے عالمی شہرت یافتہ تاریخی مقامات کی سیر کے لیے نکل پڑے۔ سب سے پہلے قصر توپ کاپی کا رخ کیا۔ ترک زبان میں اسے توپ کاپی سرائے کہتے ہیں۔ محل کو سرائے سے تعبیر کرنا دنیا کے عارضی پن کی دلالت کرتا ہے۔ توپ کاپی دراصل سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں کی تقریباً 400 برس تک سرکاری قیامگاہ تھا۔ اب اسے میوزیم بنادیا گیا ہے۔ یہی وہ میوزیم ہے جہاں حضور ﷺ کے آثار مبارک ساری دنیا کے مسلمانوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ حضور صلعم کی تلوار ‘ زرہ بکتر اور پائے مبارک کے نشان بھی یہاں محفوظ ہیں۔ چاروں خلفائے راشدین کی تلواروں کے علاوہ حضرت موسیٰؑ کا عصا‘ حضرت یوسفؑ کا عمامہ اور اسلامی تاریخ کا ایک بیش بہا خزانہ یہاں محفوظ ہے۔ توپ کاپی کی تعمیر فاتح استنبول سلطان محمد دوم کے حکم پر 1459ء میں شروع ہوئی۔ سترہویں صدی میں عثمانی فرمانروا یہاں سے باسفورس کے ساحل پر تعمیر کردہ نئے محلوں میں منتقل ہوگئے۔ توپ کاپی میوزیم میں سیاحوں کا ہجوم تھا۔ وہاں سے نکل کر ایک اور تاریخی عمارت ’’آیا صوفیہ‘‘ پہنچے۔ جو ماضی میں عیسائی گرجا گھر اور مسجد رہ چکا ہے۔ 360 تا 1453ء آیا صوفیہ‘ قسطنطنیہ کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔ 29؍ مئی 1453ء تا 1934ء اسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ 1935ء میں اسے میوزیم بنادیا گیا۔ آیا صوفیہ اپنے زبردست گنبد کے لیے مشہور ہے جو بازنطینی فن تعمیر کی سب سے بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس عمارت نے فن تعمیر کی تاریخ کو بدل کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسے دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کا اعزاز حاصل رہا۔ آج بھی آیا صوفیہ کی گنبد کے اندرونی حصے پر عیسائی مذہبی تصاویر کے علاوہ اللہ‘ محمدؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ناموں کے بڑے کتبے موجود ہیں۔ 1453ء میں جب عثمانی ترک اور سلطان محمد دوم نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ کئی عیسائی مذہبی علامتوں کو ہٹاتے ہوئے محراب‘ منبر اور بیرونی حصے میں چار میناروں کا اضافہ کیا گیا۔ آیا صوفیہ کی سیر کے بعد خلیج باسفورس کے دونوں کناروں کو جوڑنے والے ایک پل کے نیچے بنی ریستوراں میں لنچ کیا ۔ اس علاقہ میں جہاں دونوں طرف سمندر کا نیلگوں پانی نظر آتا ہے‘ استنبول کے کئی نہایت مشہور ریستوراں ہیں۔ جہاں مچھلیوں کی مختلف اقسام پر مشتمل ڈشس تیار کی جاتی ہیں۔ جس وقت ہم بندرگاہ سے گزر رہے تھے تب وہاں 16 مختلف ممالک سے آئے 23 تاریخی جہازوں کا ایک بیڑہ وہاں پہنچا۔ وہ ایک بین الاقوامی Regatta کے حصے کے طور پر آبنائے باسفورس میں لنگر انداز تھا۔ لنچ کے بعد استنبول کی علامت سمجھی جانے والی سلطان احمد مسجد (نیلی مسجد) پہنچ گئے۔ یہ مسجد سلطان احمد اول کے دور میں 1609ء اور 1616ء کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں ساری دنیا سے آنے والے سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ آج بھی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ ترکی مساجد میں خواتین کیلئے خصوصی گوشہ ہوتا ہے۔ نماز کے دوران سیاحوں کی آمد بند کردی جاتی ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے روضہ پر حاضری
دہلی سے آنے والے مہمانوں ڈاکٹر خواجہ اکرام اور ڈاکٹر رضوان الرحمن نے ہمیں پہلے ہی دن بتادیا تھا کہ مدینہ منورہ میں میزبان رسولؐ حضرت ابو ایوب الانصاریؓ کا روضۂ مبارک استنبول میں موجود ہے۔ اس کی زیارت کے بغیر استنبول کا سفر بے معنی ہے۔ نتیجتاً جمعرات کی شام جب وفد کے دیگر افراد خریداری میں مصروف ہوگئے تو ہم نے اپنے میزبان نور الدین کے ہمراہ حضرت ابو ایوب کے روضہ پر حاضری دی۔ قارئین اس بات سے واقف ہوں گے کہ یہ وہی صحابئ رسولؐ ہیں جنہیں حضور صلعم کی مدینہ ہجرت کے بعد ان کی میزبانی کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ حضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ اور اس کے پیام کے دفاع میں لگادی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور میں جب اسلامی فوج نے شام‘ فلسطین اور مصر فتح کیا تو وہ فوج کا حصہ تھے۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ کے دور میں قبرص کی فتح میں بھی حصہ لیا تھا۔ حضرت علیؓ نے عراق میں اپنے قیام کے دوران حضرت ابو ایوبؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب صدر مقرر کیا تھا۔ انہیں مسجد نبویؐ کی امامت کا بھی اعزاز حاصل رہا۔ ضعیف العمری کے باوجود حضرت ابو ایوبؓ سال میں کم از کم ایک مرتبہ جہاد میں حصہ لیتے۔ 49ھ میں استنبول کے محاصرے کے دوران جب ان کی عمر 80 سال سے زائد تھی انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ میزبان رسولؓ سے جب وہ زخموں سے چور ہوچکے تو ان کے ساتھیوں نے آخری خواہش دریافت کی تو حضرت ابو ایوبؓ نے کہا کہ انہیں استنبول شہر کی فصیل کے نزدیک سپرد لحد کیا جائے۔ بازنطینی شہنشاہ نے جب مسلم فوج کی بڑی تعداد کو جنازے میں شریک دیکھا تو اس نے اپنے جاسوس بھیجے۔ اسے بتایا گیا کہ صحابی رسولؓ شہید ہوئے ہیں اور انہیں وصیت کے مطابق فصیل شہر کے قریب سپرد لحد کیا جارہا ہے۔ بازنطینی شہنشاہ کانسٹنٹینوس چہارم نے مسلمانوں کے لشکر کو پیام بھیجا کہ ان کی فوج کی واپسی کے بعد وہ حضرت ابو ایوبؓ کی قبر کی بے حرمتی کرے گا۔ جس پر مسلم فوج کے سپہ سالار نے وارننگ دی کہ اگر ایسی کوئی حرکت کی گئی تو مسلمان علاقوں میں عیسائیوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انتباہ کارگر ثابت ہوا اور بازنطینی فرمانروا اپنے ناپاک ارادے سے باز آگیا۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد حضرت ابو ایوبؓ کی قبر کا نشان مٹ گیا تھا۔ حضرت ایوبؓ کی شہادت کے تقریباً 800 سال بعد سلطان فاتح محمد نے استنبول کا محاصرہ کرلیا۔ سلطان اس بات سے واقف تھا کہ حضرت ابو ایوبؓ نے اسی علاقے میں جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس نے صحابیؓ رسول کی قبر کی بازیافت کا تہیہ کرلیا۔ تاہم شہر کے محاصرے نے اسے مہلت نہیں دی۔ ممتاز ترک شاعر یحییٰ کمال کے مطابق جب محاصرہ طویل اور صبر آزما ہوگیا تو سلطان کے پیر و مرشد شمس الدین نے کشف کے ذریعہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک کا پتہ چلا لیا۔ عثمانی فوج میں جیسے ہی یہ خبر پھیلی سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور استنبول مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ ترکوں کے لیے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کے بعد حضرت ابو ایوبؓ کی مزار مبارک اور اس سے متصل ایوب سلطان مسجد چوتھا مقدس ترین مقام ہے۔ ترک عوام‘ حضرت ابو ایوبؓ کو ایوب سلطانؓ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور انہیں استنبول کی روح قرار دیا جاتا ہے۔ ترک عوام کے خیال میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوبؓ کو استنبول کے لیے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔
کونیا میں آدھا دن
جمعرات کی شب استنبول سے سڑک کے راستے اناطولیہ کے شہر کونیا روانہ ہوئے جو مشہور صوفی شاعر و فلسفی مولانا جلال الدین رومی کا مرکز ہے۔ یہیں ان کا مزار بھی ہے جہاں مختلف ممالک کے عقیدتمند حاضری دیتے ہیں۔ کونیا شہر دراصل سلجوق خاندان کا پایۂ تخت رہا ہے۔ یہ نہایت صاف ستھرا شہر ہے۔ فضاؤں میں پاکیزگی اور روحانیت کی مہک ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ استنبول سے کونیا کا سفر مختصر ہوگا لیکن جب سورج چڑھنے کے باوجود کونیا کے آثار نظر نہیں آئے تو وفد کے ارکان نے ڈرائیور سے فاصلہ دریافت کیا۔ تب ہمیں پتہ چلا کہ یہ 800 کلو میٹر کا سفر ہے۔ تاہم سرسبز وادیوں اور خوبصورت نظاروں نے سفر کی طوالت اور تھکان کا احساس بڑی حد تک دور کردیا۔ ترکی میں معاشی خوشحالی کا یہ عالم ہے کہ قومی شاہراہ کے آس پاس چھوٹے چھوٹے قریہ میں بھی جہاں 10 تا 15 مکانات ہوں عالیشان ’’ولا‘‘ تعمیر کیے گئے ہیں۔ کچے مکانات دیہی علاقوں میں بھی نظر نہیں آتے۔ ایک اور خوبی یہ ہے کہ ہر چھوٹی بڑی آبادی میں مساجد نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ جمعہ کا دن تھا تقریباً 12 بجے کونیا پہنچے اور سیدھے مولانا یونیورسٹی کا رخ کیا۔ یہ جامعہ‘ مولانا جلال الدین رومی سے معنون ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر بہا الدین آدم وائس چانسلر اور سرہاد تیکی لیوغلو جنرل سکریٹری نے خیر مقدم کیا۔ یہ یونیورسٹی حال ہی میں قائم ہوئی ہے۔ گُلین تحریک سے وابستہ ایک تاجر نے عارضی طور پر ایک وسیع عمارت جو شاپنگ مال کے لیے تعمیر کی گئی تھی‘ یونیورسٹی کے استعمال کے لیے بلا معاوضہ دے دی ہے۔ مستقل عمارت کی عنقریب تعمیر ہوگی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ ابتدعاً سائنس اور انجینئرنگ کے کورسس شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ میں گُلین تحریک اور اس سے وابستہ افراد کے رول اور بے لوث خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی ٹرسٹ کے ارکان جب کبھی کسی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ ناشتہ کی قیمت تک اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں تو وفد کے ارکان اپنی حیرت چھپانہ سکے۔ پروفیسر خالد سعید نے اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر محمد میاں وائس چانسلر کی وساطت سے مولانا رومی یونیورسٹی کے ساتھ یادداشت مفاہمت کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر بہاء الدین اور جناب سرہاد نے اس تجویز پر خوشنودی ظاہر کرتے ہوئے گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ پروفیسر خالد سعید نے چار مینار کا یادگار تحفہ بھی میزبان جامعہ کے عہدیداروں کو پیش کیا۔ گیسٹ ہاؤز میں کچھ دیر سستانے کے بعد مولانا رومی کی مزار پر حاضری دینے روانہ ہوگئے۔ جمعہ کی شام مولانا جلال الدین رومیؒ مغرب میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مسلمان شاعر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے خالق کے لیے مخلوق سے محبت پر زور دیا۔ مولانا جلال الدین رومی کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد متصل میوزیم کا معائنہ کیا جہاں قرآنِ مجید کے نہایت نادر نسخے رکھے ہیں۔ ان میں حیدرآباد کے 8 ویں نظام نواب میر برکت علی خان کے عطیہ کردہ نادر نسخے بھی شامل ہیں۔ مولانا رومی کے مزار سے نکلنے کے بعد وسیع صحن میں ہمارے میزبان نور الدین نے تصوف کے موضوع پر بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے بتایا کہ تصوف کے معنی یہ نہیں کہ آدمی شریعت اور شرعی قوانین سے بے بہرہ ہوجائے۔ مولانا رومی کے آستانے سے ہم سیدھے ایک اسکول پہنچے۔ یہ اسکول بھی گُلین تحریک سے وابستہ گروپ چلا رہا ہے جس کا شمار ترکی کے نہایت معیاری مدارس میں ہوتا ہے۔ اسکول کی ہمہ منزلہ نہایت خوبصورت عمارت کو دیکھنے سے میڈیکل یا انجینئرنگ کالج کا گماں ہوتا ہے۔ چونکہ شام کا وقت تھا۔ جماعتوں کو چھٹی ہوچکی تھی لیکن چوتھی منزل پر ننھے بچے ثقافتی پروگرام پیش کر رہے تھے۔ کونیا کے تاجر مولود شیران کی خوبصورت قیامگاہ پر رات کے کھانے کے بعد ہمارا گروپ ترکی کے دارالحکومت انقرہ روانہ ہوگیا۔ مشہور سوشیل نیٹ ورکنگ سروس ’’Orkut‘‘ تیار کرنے والے سافٹ ویئر انجینئر اورکت بایوککوکتین کا تعلق کونیا ہی سے ہے۔
انقرہ کے شب و روز
انقرہ ترکی کا دوسرا بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ اناطولیہ علاقہ کا وسیع حصہ ہے۔ اسی شہر میں تمام غیر ملکی سفارتخانے بھی ہیں۔ کونیا سے انقرہ پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئی۔ یہاں ہمیں ایک عمدہ گیسٹ ہاؤز میں ٹھہرایا گیا۔ ہم نے ہندوستان میں ہمہ پہلو سیکیوریٹی Multi layer security دیکھی تھی لیکن پاکی اور صفائی کا ہمہ پہلو نظام ترکی میں دیکھنے کو ملا۔ گیسٹ ہاؤز میں داخل ہوتے ہی جوتے اتارنے پڑے۔ کپ بورڈ میں رکھی مخصوص چپل پہننے وک دی گئی۔ بیت الخلاء میں استعمال کیلئے ایک علیحدہ ربر سے بنایا ہاف شو رکھا ہوا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ گیسٹ ہاؤز کے تمام کمروں میں باتھ روم تو اٹیچ تھا لیکن بیت الخلاء کمروں سے دور فاصلے پر تھے۔ مزید یہ کہ بیت الخلاء ہندوستانی طرز کے تھے۔ ویسٹرن اسٹائل سے گریز کیا گیا تھا۔ سمان یولو اسکول کے ہاسٹل میں بھی صفائی کا یہی نظم ہے۔ ناشتے کا اہتمام ترک تاجر اسماعیل سرغان کی قیامگاہ پر کیا گیا۔ ہمارا گیسٹ ہاؤز سمان یولو ہائی اسکول (انقرہ) کی شاندار عمارت سے متصل تھا لیکن سینچر ہونے کے باعث اسکول بند تھا۔ دو پہر میں جدید ترکی کے معمار مصطفی کمال اتاترک کے مقبرے پر پہنچے۔ جسے انقرہ میں سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ اتاترک کی آخری قیامگاہ رومن طرز تعمیر کی یاد دلاتی ہے۔ اتاترک کے کئی ’’کارناموں‘‘ میں ترکی کو سیکولر جمہوریت میں تبدیل کرنے کے علاوہ ترک زبان کے رسم الخط کی تبدیلی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترکی میں خواندگی کی زبردست شرح کے باوجود عوام کی بڑی اکثریت عربی اور فارسی رسم الخط سے نابلد ہے۔ ترکوں کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ لفظ اردو‘ ترک زبان کی دین ہے۔ دو پہر میں ’’کوجا تی پے‘‘ مسجد پہنچے جسے مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر انقرہ کے مشہور اناطولین سیویلائیزیشن میوزیم کی بھی سیر کی۔ جہاں قدیم ترک تاریخ کے آثار محفوظ کیے گئے ہیں۔ واپسی میں انقرہ کے قدیم شہر کا بھی نظارہ کیا۔
اتوار کی صبح انقرہ میں 8 ویں انٹرنیشنل ترک اولمپیاڈ میں ثقافتی نمائش کا معائنہ کیا۔ تقریباً 120 ممالک شریک تھے۔ ہم جس وقت وہاں پہنچے ثقافتی پروگرام نہیں ہو رہے تھے لیکن مختلف ممالک کے اسٹالس پر زبردست رونق تھی۔ عراق کا اسٹال سب سے زیادہ پرہجوم تھا۔ ہندوستان کے اسٹال کے باہر دہلی کے ایک اسکول کی لڑکی الیزا‘ ترک خواتین کے ہاتھوں پر مہندی کے ڈیزائن ڈال رہی تھی۔ پاکستان کے اسٹال پر بھی یہی منظر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اولمپیاڈ میں شامل تمام اسکول وہی ہیں جو مختلف ممالک میں ترکی اور گُلین تحریک نے قائم کیے ہیں۔ دو پہر میں ترک پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نوزاد پکدیل نے ہوٹل میں مہمان وفد کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے ہندوستانی جمہوریت اور کثرت میں وحدت کے جذبے کی ستائش کی۔ اس موقع پر جناب نریندر لوتھر نے ہند ۔ ترکی تعلقات اور بالخصوص نظام حیدرآباد کے ترک روابط پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ساتویں نظام میر عثمان علی خان نے اپنے دونوں صاحبزادوں کی شادی سلطنت عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان عبدالمجید کی صاحبزادی اور بھتیجی سے پیرس میں کی تھی۔ جناب نوزاد اگرچہ حکمراں جماعت کے ایک سینئر لیڈر ہیں لیکن ان کے ساتھ کوئی سیکیوریٹی نہیں تھی۔ مہمان وفد کے ساتھ تبادلہ خیال سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ بعد میں انقرہ کے ایک ہاسپٹل کے ہمارے دورے میں شامل ہوگئے۔
فتح اللہ گُلین کون ہیں؟
قارئین کو یقیناًاس بات کی جستجو ہوگی کہ محمد فتح اللہ گُلین آخر کون ہیں جن کا ہم بار بار تذکرہ کرچکے ہیں۔ انہی کی تحریک سے وابستہ گروپ انڈیالاگ نے ہمارے دورے کا اہتمام کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ترکی میں جتنے اسکول‘ میڈیا اداروں‘ جامعات‘ دیگر اداروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ہماری ملاقات کروائی گئی ان کا تعلق اسی تحریک سے تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ گُلین کے حامی اور پیرو‘ ترکی کے موجودہ مذہب پسندانہ کردار میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ فتح اللہ گُلین 1941ء میں اناطولیہ کے موضع میں ایک نہایت مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن‘ تفسیر‘ حدیث‘ فقہ اور تصوف پر دسترس حاصل کی۔ 1959ء میں انہیں محکمہ مذہبی امور نے مبلغ کی سند عطا کی۔ 18 سال کی عمر میں وہ ایک مسجد کے امام مقرر کیے گئے۔ ترک دانشور‘ فلسفی اور امن کے علمبردار فتح اللہ گُلین نے ملک اور بین الاقوامی سطح پر انسانی شخصیت پر مرکوز ایک سماجی سیول تحریک کا آغاز کیا ہے۔ وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور امن عالم کے علمبردار ہیں۔ فتح اللہ گُلین نے زائد از 20 برس تک مختلف مساجد میں خطیب و امام کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسی دور میں ان کے رفقاء کی بڑی تعداد تیار ہوگئی۔ حالیہ عرصے میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ان کا ساتھ دینے لگے۔ گُلین اپنی تحریک کو رضاکاروں کی برادری قرار دیتے ہیں جنہوں نے دوسروں کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ وہ خود کو قائد نہیں کہتے۔ اسلامی یا مذہبی تحریک کا لیبل لگانے کے بجائے وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور انسانی شخصیت سازی پر اپنے کام اور مساعی کو مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ گُلین تحریک کے زیر اثر نہ صرف ترکی بلکہ ساری دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں ترک انتظامیہ کے اسکول قائم ہیں۔ وسطی ایشیاء اور آفریقہ میں اس گروپ نے زبردست تعلیمی خدمات انجام دی ہیں۔ ہمارے رابطہ کار نور الدین‘ جن کا تعلق کرغزستان سے ہے‘ اسی تحریک کے قائم کردہ اسکول سے فارغ ہیں۔ قارئین کو یہ جان کر شاید تعجب ہوگا کہ حیدرآباد میں بھی اس تحریک کی ضمنی تنظیم نے Learnium کے نام سے 3 اسکول قائم کیے ہیں۔ فتح اللہ گُلین اور ان کی تحریک کے بارے میں ہمارا مشاہدہ اور مطالعہ فی الحال محدود ہے اس تعلق سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے (قارئین ویب سائٹ www.fgulen.com پر مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں جہاں اردو لنک بھی دستیاب ہے) ۔ ترکی کے دورے میں ہم نے ایک ایسے مسلم ملک کا مشاہدہ کیا جو خواب غفلت سے بیدار ہو رہا ہے۔ جہاں کا معاشرہ خود غرضی اور نفسا نفسی کے بجائے بے لوث خدمت کے جذبے پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیبوں کے تصادم کی گوج کے دور میں ترکی کی سرسبز وادیوں سے تہذیبوں کے اتحاد کے نعرے کی صدا سنائی دے رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس طرح کی کوششیں جو کہ غیر سرکاری سطح پر کی جارہی ہیں بارآور ثابت ہوں گی۔
وطن سے دور ہم وطنوں سے شناسائی
ترکی کے دورے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ 12 رکنی وفد کے بیشتر ارکان ایک دوسرے سے شخصی طور پر ناواقف تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ سفر سب کے لیے نہ صرف یادگار ثابت ہوا بلکہ وطن سے دور ہمیں اپنے برادران وطن کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا۔ ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہم اپنے معاشرے میں کس قدر الگ تھلگ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک دوسرے سے تعارف اور شناسائی کے لیے شاید اب سات سمندر پار کرنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں جناب سریش ریڈی جیسے سینئر سیاست دان کے علاوہ جناب تراب الحسن اور جناب نریندر لوتھر کی شکل میں دو بزرگ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار بھی تھے۔ ڈاکٹر اے گوپال کرشنن نے جو انگریزی اخبارات کے کالم نگار بھی ہیں‘ بین الاقوامی مسائل پر اپنی گہری نظر کے ذریعہ نہ صرف میزبانوں کو بلکہ وفد میں شامل دیگر ارکان کو بھی متاثر کیا۔ اُردو ادب اور درس و تدریس کے حلقوں میں پروفیسر خالد سعید کا نام محتاج تعارف نہیں۔ ڈاکٹر سنجے سبودھ ہندوستان کی عہد وسطیٰ کی تاریخ کے ماہر ہیں ۔ ڈاکٹر ستیہ پرکاش نوجوان اور معلومات سے لیس اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر قرۃ العین حسن اور ڈاکٹر دلنواز ہمیشہ وفد میں Live Wire کا کام کرتیں۔ جناب نریندر لوتھر کی شریک حیات‘ محترمہ بندی لوتھر کو جب بھی موقع ملتا ملک کی تقسیم سے قبل پاکستان میں عمر کے ابتدائی حصے کو یاد کرتیں اور حالیہ عرصے میں دورۂ پاکستان کے قصے سناتیں۔ محترمہ سنگا مترا ملک ایک سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی گلوکارہ بھی ہیں۔ دوران سفر انہوں نے کئی مرتبہ سریلے نغمے چھیڑ کر سماں باندھ دیا۔ ڈاکٹر قرۃ العین حسن، جنہیں گھر والے اور قریبی دوست عینی کہتے ہیں‘ ہمیشہ اپنے والد محترم جناب تراب الحسن کی فکر میں رہتیں۔ تاہم ’’بابا‘‘ (تراب الحسن صاحب) کے جوش کا یہ عالم تھا کہ پانچویں منزل پر لفٹ کے بغیر منٹوں میں پہنچ جاتے۔ جبکہ ان سے کافی کم عمر افراد بھی سیڑھیاں چڑھنے میں تردد کا مظاہرہ کرتے تھے۔ جناب نریندر لوتھر نہایت نرم خو اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بھی پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ملک کی تقسیم سے قبل پنجاب کے اُس علاقے میں پیداہوئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ اردو کے علاوہ عربی اور فارسی جانتے ہیں۔ ان کے والد محترم عربی اور فارسی کے عالم اور قرآن کے مترجم تھے۔ انہوں نے قرآن مجید اور بھگوت گیتا میں پائے جانے والے مشترکہ نکات قلمبند کیے تھے۔ وفد میں جناب وٹھل راؤ کی شخصیت بھی نہایت متاثر کن تھی۔ سادہ لباس اور سادہ مزاج شخصیت کے مالک وٹھل راؤ نہایت کٹر سبزی خور ہیں۔ ساتھیوں کے کام آنا ان کی عین فطرت ہے۔ پیر 31؍ مئی کی صبح 8 بجے انقرہ سے بذریعہ بس ہم استنبول روانہ ہوئے۔ سنگا مترا ملک نے مکیش کے مشہور گیت سہانہ سفر اور یہ موسم حسیں۔۔۔ کے ذریعہ اس حسین سفر کی بخوبی ترجمانی کی۔ پروفیسر خالد سعید نے جو ایک اچھے شاعر بھی ہیں‘ منتخب اشعار سناکر سب کو محظوظ کیا لیکن ہماری حیرت کی اس وقت کوئی انتہاء نہیں رہی جب خالد سعید صاحب نے بس میں موجود مائک تھام کر محمد رفیع کے چند یاد گار گیت نہایت سلیقے سے پیش کیے۔ اس طرح شام 4 بجے استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے سے ہم دوبئی روانہ ہوئے۔ ترکی کے دورے کی ڈھیر ساری یادیں سمیٹے منگل یکم ؍ جون 2010ء کی صبح 9 بجے شمس آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد ہمارا یہ سفر اختتام کو پہنچا۔

Tuesday, September 14, 2010