Monday, October 25, 2010

جمہوری ہندوستان میں انصاف کا خون ,تیشہ فکر :عابد انور


جمہوری ہندوستان میں انصاف کا خون
تیشہ فکر عابد انور
ابومنصور سبکتگین(وفات اگست۹۹۷ء۔پیدائش۹۴۲ء) ۹۷۷ ء میں غزنی کا حکمراں بناتھا۔اپنی شجاعت و دلیری کی وجہ سے اپنی سلطنت میں توسیع کی۔ ہندوستان کے راجہ جے پال کو غزنی کے استحکام سے خطرہ محسوس ہوااور انہوں نے غزنی کو تباہ و برباد کرنے کیلئے اس پر حملہ کردیامگرانہیں شکست فاش ہوئی۔ ہرجانے کی شرط پر رہائی نصیب ہوئی لیکن وہ اپنی عادت سے مجبوراپنے عہد پر قائم نہیں رہ سکا اور سبکتگین سے جنگ کرنے لئے غزنی کا رخ کیا لیکن شکست ان کامقدر تھی۔سبکتگین کے بعد ان کا بیٹا سلطان محمود غزنوی (م ۳۰ اپریل ۱۰۳۰ء۔پ ۲ نومبر ۹۷۱ء) ۹۹۷ء میں تخت نشیں ہوا۔ جے پال نے پھر ایک بار معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور محمود غزنوی سے ۱۰۰۱ء میں جے پال کی معرکہ آرائی ہوئی اور شکست کے بعد جے پال نے خود کو آگ کے حوالے کردیا۔ جے پال کی موت کے بعد اس کا بیٹا آنند پال تخت نشیں ہوا۔ انہوں نے اجین، گوالیار، کالنجار، قنوج، دہلی اور اجمیر کے ہندو راجاؤں کو شامل کرکے اتحاد تشکیل دیا اور محمود غزنوی سے مقابلہ کیامگر ان کی شجاعت جرات کے سامنے اتنے ہندو راجاؤں کی فوج ٹک نہیں سکی اور زبردست ہزیمت کی شکار ہوئی۔ محمود غزنوی نے ہندوستان پر ۱۷ مرتبہ حملہ کئے اورہر مرتبہ اپنے مفتوحہ علاقے ہندو راجاؤں کے حوالے کرکے غزنی واپس چلے جاتے تھے مگر سب سے بڑا مشہور حملہ جو ہر مورخ کے دماغ کے تاریک کونوں کو روشن کئے ہوئے ہے وہ سومناتھ مندر پر حملہ تھا۔ یہ حملہ دسمبر ۱۰۲۴ ء میں کیا گیا تھا۔ان سطور سے ان سوالوں کا جواب بہ آسانی مل جائے گا کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر حملہ کیوں اور کس لئے کیا۔دوسری بات یہ ہے کہ سومناتھ مندر پر حملہ کی تاریخ ،مہینہ اورسال سب کچھ معلوم ہے لیکن اجودھیا میں رام مندر کے توڑے جانے کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے ، نہ دن، نہ تاریخ،نہ مہینہ اور نہ سال جبکہ بابری مسجد ۱۵۲۸ ء میں ظہیر الدین بابر کے سپہ سالار میر باقی نے تعمیر کرائی تھی اگر اس وقت توڑ کر مسجد کی تعمیر کرائی گئی ہوتی بہت شور ہوتا ، ہنگامہ آرائی ہوتی، لوگوں کے زبان پر رام مندر توڑے جانے کا ذکر ہوتا۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر ہوتا۔ اجودھیا میں رام مندر کا وجود ہوتا تو ہندوستان کی سیاحت کرنے والے فاہیان، ابن بطوطہ اور البیرونی کی تحریر وں میں اس کا ذکر ہوتا جن پر ہندوستانی تاریخ کی بنیاد ہے لیکن یہ سبھی لوگ خاموش ہیں ظاہر سی بات ہے کہ جس کا کوئی وجود ہی نہ ہو تو اس کاذکر کیوں کر کیا جائے گا ان سیاحوں نے ہندوستان کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں ، واقعات، تہذیب، رہن سہن اور تاریخی مقامات کا ذکر کیا ہے۔ تلسی داس کی رامائن سے قبل رام کاکوئی تاریخی وجود نہیں ملتا ہے۔ہندوستان کا کوئی بھی معتبر مورخ رام کے بارے میں حتمی رائے نہیں رکھتا جو بھی بات کہی جاتی ہے وہ صرف روایتوں، قصے کہانیوں اور ہندوستان میں کھیلے جانے والے ڈراموں کی بنیاد پر کہی جاتی ہے نہ کہ حقیقی بنیاد پر نہیں۔
ماہ ستمبر میں دو فیصلے ایسے آئے ہیں جن سے عدلیہ کی جڑیں ہلتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں ایک کاتعلق امریکہ سے ہے تو دوسرا امریکہ کو سب سے زیادہ پسند کرنے والا ملک ہندوستان سے۔ امریکہ میں پاکستانی نیورو سائنس داں اور امریکی جیل میں محبوس ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ہے جنہیں امریکی عدالت نے ۸۶ سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ثبوت کے طور امریکی استغاثہ کے پاس ہٹ دھرمی اور من گھڑت بیان کے علاوہ کوئی بھی ثبوت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود امریکی ججوں نے انہیں ۸۶ سال کی تاریخی سز ا دی ہے جو کہ ایک موضوع بحث ہے دوسرا فیصلہ مشہور مقدمہ اور ہزاروں لوگوں کی بلی لینے والا اجودھیا قضیہ کاہے ۔جس طرح یکم فروری کو کسی فریق کی بات سنے بغیرفیض آ باد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تالا کھلوانے حکم دیا تھا اسی طرح الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنوّ بینچ نے تمام ثبوتوں، دستاویزات ا ور شہادتوں کو پس پشت ڈال کر صرف عقیدے کی بنیاد پر فیصلہ سنا دیا ۔ججوں کے بارے میں کہا جاتاہے وہ صرف اور صرف ثبوت اور دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں خواہ حقائق انہیں معلوم کیوں نہ ہوں، آستھااور عقیدے کو اپنے اوپر کبھی بھی حاوی ہونے نہیں دیتے لیکن یہاں رام مندر کو تسلیم کرتے ہوےئے فیصلہ سنا دیا گیا اس پر کوئی دلیل نہیں دی گئی کہ رام مندر کیوں ہے ، اسے کب توڑا گیا۔اسے کس نے تعمیر کرایا تھا۔ ہندوستان میں رام تھے تو اجودھیا کے علاوہ پورے ملک میں کسی اور جگہ رام مندر کیوں نہیں ہے۔ چھوٹے موٹے دیوی دیوتا یہاں تک کہ رام کے بھکت ہنومان کے مندر موجود تھے اور ہیں رام تو ہندؤوں کا سب بڑا ہیرو ہیں لیکن رام کا مندرکہیں کیوں نہیں تھا اور کیوں نہیں ہے۔ دونوں فیصلوں میں بہت ہی یکسانیت اور مماثلت ہے دونوں ہی جگہ عدالت میں انصاف کا خون ہوا ہے ۔ دونوں جگہ ہی فیصلے پرجذبات حاوی ہیں ثبوتوں کی جگہ آستھا اور خواہشات کو جگہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو جب اقدام قتل کے مبینہ الزام میں ۸۶ سال کی سزا دی جاسکتی ہے تو امریکی شہریوں، جنرلوں اور حکمرانوں کو عراق اور افغانستان میں لاکھوں افراد کے قتل کے جرم میں کتنی سزا دی جانی چاہئے؟۔
ہندو تنظیمیں اجودھیا کے فیصلے پر خوشی منارہی ہیں مگر انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہاں مسلمانوں کی صرف شکست نہیں ہوئی ہے بلکہ ہندوستان کی عظمت کی شکست ہوئی ہے . ہندوستان جو کثیر اور سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے اس کی شکست ہوئی ہے. جس گنگا جمنی تہذیب پر وہ فخر کرتا ہے اس کی شکست ہوئی ہے۔ہندوستان کی عدلیہ اور انصاف کی ہزیمت ہوئی ہے ۔ یہاں یہ راگ الاپتے نہیں تھکتے کہ قانون سب سے بالا اور عقید سے برترہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ سمجھ سے بالاتر ہے آخر کس بنیاد پر فیصلہ کیا گیاہے کیا ہندوستان میں قصے کہانیوں اور عقائد کو شواہد اور دستاویزات پر فوقیت دی جائے گی۔ آستھا کو قانون پر سربلندی حاصل رہے گی؟ یہ فیصلہ کتنا سنگین ہے شاید اس کا احساس ملک کے حکمرانوں کو مکمل طور پر نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کو طے کرے گاکہ یہ ملک اب کس بنیاد پر چلے گا عقائد کی بنیاد پر یا قانون کی بنیاد پر۔ ملک کا قانون سیکولر رہے گا یا عقائد پر مبنی ہوگا یہ فیصلہ کسی چھوٹی موٹی عدالت کا فیصلہ نہیں ہے کہ اسے نظر انداز کردیا جائے یہ عدالت عالیہ کا فیصلہ ہے۔تین ججوں کے بینچ کافیصلہ ہے جہاں سے ناانصافی کی امید بہت کم جاتی ہے۔بابری مسجد کے موجود ہ فیصلے کو ۱۹۹۲ کے مسجد کی شہادت سے زیادہ خطرناک قرار دیا جانا چاہئے کیوں کہ اس دن مسجد کو گرائی گئی تھی لیکن اس دن تو عدالت نے ایک طرح سے ان کے غلط اقدامات کو صحیح ٹھہرادیا ہے۔
اس فیصلے میں مسلمانوں کی تلوار سے مسلمانوں کی گردن اڑائی گئی ہے۔ جسٹس دھرم ویر شرما نے قرآن و حدیث کے حوالے سے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ کیوں کہ یہ مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی تھی اس لئے یہاں نماز نہیں ہوسکتی اور نہ ہی مقبوضہ زمین پر مسجد کی تعمیر جائزہے۔انہوں نے مسجد کی تعمیر ہی کو غلط مانا ہے۔لیکن سوال یہ ہے آخر انہوں نے کس بنیاد پر یہ تسلیم کیا کہ بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔اس کے لئے انہوں نے کوئی قطعی دلیل پیش نہیں کی صرف آستھاکا خیال رکھا۔ریٹائر ہونے کے بعد ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خیالات اور عقیدے کا کھل کر اظہار کیا تھا اس کی نشست کے پست میں رام للا کی مورتی کا فوٹو تھا۔ان کی باتوں سے کہیں نہیں لگ رہا تھا کہ انہوں نے کسی دلیل کو تسلیم کیاہے اور نہ ہی وہ کسی دلیل کی بات کر رہے تھے صرف عقید ے کی بات کر رہے ہیں اور اپنے فیصلے کو جائز ٹھہرانے کے لئے قرآن ، حدیث اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دے رہے تھے۔انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ کسی ناجائز جگہ پر تعمیر کی گئی مسجد کو مسجد نہیں مانا گیا ہے اور نہ ہی اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔اس میں جو سب سے بڑا جھول ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک غلط چیز کو تسلیم کرلیا اور فیصلے کی پوری عمارت اس پر کھڑی کردی اور انہوں نے اس نقطے پر غور کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ ۱۵۲۸ء سے دسمبر ۱۹۴۹ء تک مسجد میں جبراً مورتی رکھے جانے تک اس میں برابر نماز ہوتی رہی تھی۔
سب سے غلط چیز کا چلن جو اس فیصلے سے عام ہونے کااندیشہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک غلط نظیر قائم ہوئی ہے اس نظیر کی بنیاد پر اس طرح کے فیصلے کئے جاتے رہیں گے۔ کسی مذہبی مقام پر قبضہ کرکے اور عقیدے کا حوالہ دے کر ناجائز قبضے ہونے شروع ہوجائیں گے اور عدالت آستھا کا حوالہ دے کر انصاف کرنے سے قاصر رہے گی۔سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد ملک میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخر امن کے دشمن اور ’’قسم رام کی کھاتے ہیں مندر وہیں منائیں گے‘‘، ’’عدالت کافیصلہ ہم نہیں مانیں گے یہ ہمارے آستھا کا سوال ہے‘‘۔ اسی طرح کی اشتعال انگیز باتیں کرنے والے امن کی باتیں کیوں کررہے تھے مسلمانوں کا ماتھا اسی وقت ٹھنک جانا چاہئے تھا۔ ہندوتو کے علبردار تمام لیڈران کو یہ معلوم تھا کہ فیصلہ کیا آنے والا ہے ۔ اس سے وابستہ وکلاء جس انداز میں اور جس اعتماد سے باتیں کررہے تھے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ کس طرح کا فیصلہ آئے گا۔جشن نہ منانے کی اپیل کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے آفس میں جم کر جشن منایا گیا اور پٹاخے چھوڑے گئے ۔ اس کے علاوہ بھگوا بریگیڈ نے ملک کے دیگر حصوں میں بھی جشن منایا۔جس طرح بابری مسجد میں مورتیاں رکھوانے سے لے کر تالا کھلوانے اور شیلانیا س کرانے کا سہرا کانگریس کے سر ہے اسی طرح اس غیر مصنفانہ فیصلہ کا سہرا بھی کانگریس کے ہی سر جاتا ہے۔کانگریس نے یہ سوچا تھا کہ جس طرح بابری شہادت کا واقعہ بھول کر ۲۰۰۴ اور ۲۰۰۹ میں مسلمانوں نے کانگریس کا ساتھ دیا اور مسلم ووٹ کے سہارے وہ اقتدار سے لطف اندزو ہورہی ہے ۔ اسی طرح زمین ایک قطعہ د ے کر مسلمانوں کو خوش کردیں گے۔ کانگریسی حکومت اور ہندوستان کے تمام رہنماؤں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ظلم و جبر کے سہارے حق کو کچھ دیر کے لئے تو دبایا جاسکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لئے نہیں کیوں کہ حق کی آواز ایک دن بلند ہوکر رہتی ہے۔
مسلمانوں کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ تمام صاحب فکر، سیکولر، صاف شفاف ذہن رکھنے والے اور حق و انصاف کی آواز بلند کرنے والے وکلاء نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا ہے ۔ سب نے ہی اسے فیصلہ نہیں بلکہ پنچایت قرار دیا ہے جہاں فیصلہ دلائل کی بنیاد پر نہیں رتبہ، دبدبہ،طاقت اور منہ دیکھ کر کیا جاتاہے۔الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ میں بھی اسی طرح کا فیصلہ ہوا ہے جہاں انہوں نے دلائل کو ایک طرف رکھ ایک مفروضہ کو حقیقت کی شکل میں تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ صادر کردیا ۔ مسلمانوں کو ان سب لوگوں ساتھ لے کر اور ان سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے پہلے لائحہ عمل تیارکرنا چاہئے اور تمام دلائل، نظیر، دستاویزات، گزٹ اوروقف میں درج بابری مسجد کے حقائق کا گہرائی اور گیرائی کے ساتھ مطالعہ اور تجزیہ کرنا چاہئے۔
ڈی۔۶۴، فلیٹ نمبر۔ ۱۰ ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔ ۲۵
9810372335
E-mails
abidanwaruni@gmail.com
abid.anwar@yahoo.co.in

بابری مسجد کا معاملہ ,ہندوستانی جمہوریت پر بدنماداغ,تیشہ فکر: عابد انور




بابری مسجد ہندوستانی جمہوریت، عدلیہ، مقننہ،انتظامیہ کی جانب داری، تعصب اور ہٹ دھرمی کاشکار رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار نے اسے ہمیشہ لہلہاتے فصل کی شکل دیکھا اور جم کر کٹائی کی تو کانگریس نے ہمیشہ اس کی آبیاری کی اور سنگھ پریوار کو مسلمانوں کو ڈرانے، دھمکانے، دوسرے درجے کا شہری بنانے اور نفسیاتی شکست سے دوچار کرنے کے لئے موقع فراہم کرتی رہی۔بابری مسجد کی شہادت مسلمانوں کو ہراساں کرنے یا بابری مسجد کی شہادت کی تیاری کے لئے صرف سنگھ پریوار کو قصوروار ٹھہرانا ناانصافی ہوگی اس کے لئے کانگریس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے جتنی کہ سنگھ پریوار یا بی جے پی۔فسادات کی تمام جڑوں کا سرا کانگریس سے جا ملتا ہے۔بابری مسجد گزشتہ ساٹھ برسوں سے ناانصافی کا رونا رو رہی ہے لیکن ہندوستانی حکومت نے کبھی بھی اس کے درد کو سمجھنے اس کی کراہ کو محسوس کرنے اور اس کی تکلیف دیکھنے کی کوشش کی نہیں بلکہ وہ آنکھ موند کر سوتی رہی۔کبھی حالات کا بہانہ بناکر تو کبھی امن و قانون کا سہارا لے کر مسلمانوں پرظلم و ستم کا پہاڑ توڑنے کے لئے دروازہ کھولتی رہی۔
سپریم کورٹ نے میش چندر ترپا ٹھی کی عرضی خارج کرکے الہ آباد کورٹ کے لکھنو بینچ کو فیصلہ سنانے کی ہدایت دے دی۔بابری مسجد کا فیصلہ ۲۴ ستمبر کو آنے والا تھا لیکن پھر ایک بار اسے روکنے کی کو بھرپور تیاری کی گئی تھی۔بہانہ ملک کے حالات کوبنایا گیا، سیلاب، کامن ویلتھ گیمز اور کشمیر کے حالات کا حوالہ دیا گیااور یہ کہا گیا کہ بات چیت کا موقع دیا جائے تاکہ آپس اس مسئلے کو سلجھایا جاسکے۔بات چیت بری چیز نہیں ہے اور ہر مسئلے کا حل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ ہی نکلتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے، کس پربھروسہ کیا جائے، حکومت پر، سنگھ پریوار پر،بھارتیہ جنتا پارٹی یا کسی اورہندو گروپ پر، سب نے مسلمانوں کو دھوکہ ہی دیا ہے۔گزشتہ ۶۰ برسو ں میں مسلمانوں کو دھوکہ کے علاوہ اور کیا ملا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ۱۹۹۲ کے بعد گزشتہ ۱۸ برسوں کے دوران کسی سمجھوتے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ ہندو رہنماؤں کی جانب سے کسی پہل کی گنجائش کیوں نہیں نکالی۔آخر وہ لوگ کس زعم میں تھے۔ ۱۹۹۲ تک ہندو رہنماؤں سے کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے۔ سابق وزرائے اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ اور چندر شیکھر نے اس ضمن میں کئی بار کوششیں کی لیکن ساری سعی لاحاصل رہی اور کوئی بات چیت منطقی انجام تک نہیں پہنچ پائی۔ وجہ ان کی ہٹ دھرمی تھی، اس کے پس پشت حکومت کی طاقت تھی، عدلیہ، مقنہ، انتظامیہ اور میڈیا کی حمایت حاصل تھی۔وہ ہر حال میں بابری مسجد کا نام و نشان اجودھیا سے مٹا دینا چاہتے تھے اور انہوں نے دن کے اجالے میں پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے یہ کردکھایا، حکومت، عدالت، مقننہ اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔کسی نے اس کی آہ کو محسوس کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہندو رہنماؤں سے آخری مذاکرات بابری مسجد کی شہادت سے چھ ماہ قبل دہلی کے جامع مسجد کے موجود ہ شاہی امام مولا نا سید احمد بخاری کی قیادت والی بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوئی۔اس سے پہلے سید شہاب الدین کی کنوینر شپ والی بابری مسجد رابطہ کمیٹی نے ان لوگوں سے بات چیت کرنے سے انکار کردیا کیوں کہ انہیں اندازہ تھا کہ یہ صرف وقت کا زیاں ہے اور وہ لوگ جبراً بابری مسجد کو ہتھیانا چاہتے ہیں کیوں کہ جب بھی ثبوت دینے کی بات کی جاتی یا کسی موقف پر قائم رہنے کے لئے کہا جاتا وہ بدک جاتے اور انہوں نے اس ضمن میں مسلم مذاکرات کاروں کو کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا اور نہ ہی کسی بات پر قائم رہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلمانوں کی مذہبی تنظیم جب بھی کسی موقف پر ٹھہرنے یا اس پر عمل کرنے کی بات تو مذاکرات کرنے والے ہندو رہنماؤں نے راہ فرار اختیار کی ۔ باآاخر انہوں نے بات چیت کرنے کے لئے شاہی امام سید احمد بخاری کا سہارا لیا تھا اور اس کے چھ ماہ بعد مسجد کی شہادت عمل میںآئی تھی۔مسجد کی شہادت اور آخری مذاکرات میں گہرا رشتہ ہونے کا شبہ ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ شاہی امام ۲۰۰۴ میں بی جے پی کی کھلم کھلا حمایت کرچکے ہیں۔وہ ابھی بھی بی جے پی کے تئیں نرم گوشہ رکھتے ہیں ورنہ بی جے پی اقلیتی مورچہ والے کبھی بھی جامع مسجد سے گاندھی سمادھی تک امن مارچ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔انہوں نے امن مارچ کے لئے جھنڈے والان کو کیوں منتخب نہیں کیا۔وہاں سے مضبوط انداز میں پیغام جاتا اور میڈیا میں اس امن مارچ کوریج بھی بہت ملتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیوں کہ بی جے پی یہ پیغام ہندؤوں میں پہنچانا ہی نہیں چاہتی ہے ۔کہا جاتا ہے نا کہ دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔
نفرت کے سوداگر اور امن کے دشمنوں کو آخری امن مارچ کی ضرورت کیوں پیش آگئی وہ بھی جامع مسجد کے علاقے سے ،کیا بدامنی کا خطرہ صرف مسلمانوں سے ہے۔وہ تو رتھ یاترا کے ماہر ہیں آج تک انہوں نے کبھی امن مارچ نہیں کیا، ۲۰ برس قبل ،۲۵ ستمر۱۹۹۰ کو بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے سومناتھ مندر سے خونی رتھ یاترا شروع کی تھی جسے بابری مسجد کی شہادت کاداغ بیل کہا جاسکتا ہے۔اس یاترا کے بارے میں لبراہن کمیشن نے بھی سخت ریمارکس کئے ہیں ۔ اس یاترا کے دوران جگہ جگہ فسادات ہوئے تھے آخر کاراس وقت کے بہار کے وزیر اعلی لالو پرساد یادو نے سمستی پور میں اس یاترا کا انت کردیا تھا جس کی قیمت وہ آج تک چکا رہے ہیں ۔ چارہ گھوٹالے کے الزام میں لالو پرساد یادو کو گرفتار کرنے کے لئے اس وقت کے سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائرکٹر بسواس نے پٹنہ میں فوج کو بلالیا تھا۔کسی لیڈر کو گرفتار کرنے کے لئے فوج کو بلایا گیاہو ہندوستان کی تاریخ میں ایسی نظیرنہیں ملتی۔کیوں کہ وہ اڈوانی کو گرفتار کرنے کے ملزم تھے اس لئے انہیں ذلیل کرنے کی ہر سطح پر کوشش کی گئی۔مسٹر اڈوانی بابری مسجد کی شہادت سے قبل بھی ایسی ہی رتھ یاترا نکالی تھی۔
بابری مسجد کے معاملے کو الجھانے، بگاڑنے اور عملاً ایک مندر میں تبدیل کرنے کا آغاز پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا تھا جس کا نقطہ انجام کانگریسی وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے زمانے میں پہنچا۔جواہر لال نہرو کے دور حکومت میں جب مرکز اور یوپی دونوں جگہ کانگریس پارٹی برسراقتدار تھی دسمبر ۱۹۴۹ کو رات کے اندھیرے میں بابری مسجد میں مورتی رکھ دی گئی اورجواہر لال نہرو اسے ہٹانے میں ناکام رہے جب کہ وہ اس وقت سب سے طاقتور وزیراعظم تھے اس وقت میں ہندؤوں اور مسلمانوں میں ہم آہنگی کی قدریں موجود تھیں۔اس کے علاوہ اور بھی کانگریسی وزیر اعظم نے اس میں اہم رول ادا کیا۔راجیو گاندھی کا نام اس معاملے میں خصوصی طور پر لیا جائے گا کیوں کہ ان کے زمانے میں بابری مسجد کا تالا کھولا گیا، انہوں نے اجودھیامیں رام مندر کا شیلانیاس کیا اور ۱۹۸۹ میں اپنی انتخابی مہم کا آغازبھی انہوں نے اجودھیا سے کیا تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب مسجد شہید کی جارہی تھی اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی ا ور وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤاس اندوہناک منظر سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
۲۴ ستمبر کوالہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ کا فیصلہ آنے والا تھا جسے رمیش چندر ترپاٹھی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے اسٹے کردیا تھا۔سپریم کورٹ نے اس سمت میں صحیح فیصلہ کیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ جو معاملہ گزشتہ ۶۰ برسوں میں بات چیت سے حل نہیں ہوسکا تو وہ چند دنوں میں کیسے ممکن ہے۔جس کا اظہار سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے بھی کیا۔آخر فیصلہ روکنے سے کس کا بھلا ہوتا۔اس میں نہ تو عوام کا بھلاہوتا اور نہ ہی ملک کا۔عوام سانس روکے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے اعصاب شکن اس انتظار سے عوام پہلے ہی کافی پریشان تھے اسے لٹکاکر عوام کو پھر پریشانی میں مبتلا کرنے کی کوشش جارہی تھی اس میں بھی کانگریس کسی نہ کسی حد تک دخیل ہوسکتی ہے۔مسلمان جب کہہ چکے ہیں عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا اسے قبول ہوگا تو ہندو بھائیوں کو پھر کس چیز سے پریشانی ہے۔ہندو شدت پسند رہنما شروع سے ہی یہ کہتے آرہے ہیں کہ ا س پر فیصلہ کرنا عدالت کی بساط سے باہر کی چیز ہے۔یہ آستھا کا سوال ہے جس کاعدالت میں فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔آخر کس چیز کا خوف انہیں کھائے جارہا ہے کہ وہ کسی مرکز پرقیام کرنے کی گریز کرتے ہیں۔اجودھیا ایشو میں سب سے زیادہ جس چیزکو مثال کے طور پر اچھالا جاتا ہے وہ ہے شاہ بانو کیس کا معاملہ ۔ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ شاہ بانو کا معاملہ مسلمانوں کا خالص معاملہ تھا اس میں کوئی دوسرا فریق شریک نہیں تھا اور حکومت ہند نے جو بھی لنگڑا لولا قانون بنایاہے اس سے کسی فرقہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ اجودھیا کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔ یہ مالکانہ حق کامعاملہ ہے اسے تو صرف فیصلے یا بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے قانون بناکرنہیں۔ ہندوؤں کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہونا چاہئے۔
خون خرابہ، انتہاپسندی، فساد، تشدد، مرنے مارنے اور دیکھ لینے کی بات کرنے والے اس بار امن کی بات کرتے دیکھے گئے۔یہ اچھی بات ہے کہ ۲۴ستمبر کو آنے والے فیصلے کے موقع پر تمام طبقوں نے اس سمت میں پہل کی اور کہا کہ ہم ہر حال میں امن قائم رکھیں گے۔درحقیقت گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے عوام اس مسئلے سے تنگ آچکے ہیں اور سیاست دانوں کی عیاری، مکاری ، خود غرضی، مطلب پرستی او ر اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے عوام کو تشدد کی بھٹی میں جھونکنے کی سازش سے واقف ہوچکے ہیں۔خاص کر نوجوان طبقہ جو سنہری مستقبل کے منتظر ہیں، وہ ان لایعنی باتوں سے گریز کرتے ہیں۔انہیں اجودھیا مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ان کے سامنے مسابقت کا چیلنج ہے وہ امن کی راہ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ تشدد سے ان کا کوئی بھلا نہیں ہوگا بلکہ اس سے وہ پستی کی کھائی میں گریں گے۔اسی عوامی مزاج نے ہر لیڈر کو پریشان کردیا ہے اور وہ اب امن کی بات کرنے لگے ہیں۔
یہ اچھی بات ہے لکھنے پڑھنے والوں نے اس بار مثبت رخ اپنایا ہے ورنہ لکھنے پڑھنے والے ہی سب سے زیادہ زہر اگلتے تھے اور ایسی باتیں کہتے تھے جس سے اشتعال پھیلتا تھا۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ فرقہ پرست اور متعصب پڑھے لکھے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پرہونے مباحثے میں چند ایک کوچھوڑ کر بیشتر لوگوں نے امن کی باتیں کی ہیں اور مسجد مند ر دونوں کے حق میں اپنی رائے ظاہر کی ہے ا ور یہ کہا ہے جب متھرا میں مسجد مندر اور بنارس میں کاشی ناتھ مندر کے ساتھ مسجد ہوسکتی ہے تو اجودھیا میں کیوں نہیں۔ہندوستان کے مسلمان بھی مسجد کے ساتھ مندر بنانے کے مخالف نہیں ہیں لیکن یہ ضرور چاہتے ہیں کہ بابری مسجد ان کے حوالے کردی جائے کیوں کہ یہ مسجد ہے اور تمام دستاویزات سے مسجد ثابت ہے۔عدالت کے فیصلے لٹکانے کے پس پشت شایدیہی وجہ ہے اور فیصلے کو ٹالنا انصاف کا مزید خون کرنے کے مترادف ہوگا۔
ڈی۔۶۴، فلیٹ نمبر۔ ۱۰ ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔ ۲۵
9810372335
E-mails
abidanwaruni@gmail.com
abid.anwar@yahoo.co.in

ترکی میں نئی صبح کے آثار: عابد عبدالواسع



ترکی میں نئی صبح کے آثار
عابد عبدالواسع
پبلک ریلیشنز آفیسر
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد

’’میں ہر سال اپنی آمدنی کا تقریباً 50 فیصد حصہ خدمت خلق میں خرچ کرتا ہوں۔ بفضل تعالیٰ دولت مجھے ورثہ میں ملی ہے۔ مساجد کی تعمیر کے ذریعہ تسکین قلب حاصل کرسکتا تھا لیکن میری خواہش ہے کہ اسکولوں کے قیام کے ذریعہ ایسے بچوں کی مدد کی جائے جو معاشی طور پر کمزور ہیں۔‘‘ ان خیالات کا اظہار ترکی کے ایک صنعت کار اور کنٹراکٹر احمد اکایا نے انقرہ میں گذشتہ جمعہ کو حیدرآباد سے آئے مہمان وفد کے ہمراہ بات چیت کے دوران کیا۔ احمد اکایا سے وفد کے ایک رکن ڈاکٹر اے گوپال کرشنن نے دریافت کیا تھا کہ وہ ہر سال اپنی آمدنی کا کس قدر حصہ خدمت خلق پر خرچ کرتے ہیں۔ ترک تاجر کے جواب پر وفد میں شامل لگ بھگ تمام افراد حیرت زدہ رہ گئے۔ کیونکہ سبھی اس بات سے واقف تھے کہ اسلام میں سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی کا لزوم ہے۔ لیکن موجودہ ترکی میں آپ کو ایسے کئی تاجر‘ صنعت کار اور متمول افراد مل جائیں گے جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ نہایت خاموشی کے ساتھ راہ للہ خرچ کر کے رضائے الٰہی کے طلبگار ہیں۔
’’انڈیالاگ‘‘ فاؤنڈیشن نامی ادارے نے جو 2005ء سے ہندوستان میں بین مذہبی و تہذیبی مذاکرات اور قیام امن سرگرمیوں میں مصروف ہے 24 تا 31؍ مئی 2010ء اس خصوصی دورے کا اہتمام کیا تھا۔ حیدرآباد سے 12 منتخب افراد کو مدعو کیا گیا جن کا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق ہے۔ ’’بین مذہبی و بین تہذیبی سفرِ مذاکرات ۔ ترکی 2010ء‘‘ کے زیر عنوان اس دورے میں آندھرا پردیش اسمبلی کے سابق اسپیکر جناب سریش ریڈی‘ جناب نریندر لوتھر (سابق چیف سکریٹری آندھرا پردیش)‘ ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر جناب تراب الحسن (ڈاکٹر عابد حسین‘ سابق سفیر ہند برائے امریکہ کے برادر محترم) ‘ پروفیسر خالد سعید (صدر شعبۂ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی)‘ ڈاکٹر اے گوپال کرشنن (سابق صدر نشین اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ‘ حکومت ہند)‘ ڈاکٹر ستیہ پرکاش (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ کمیونکیشن‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ ڈاکٹر سنجے سبودھ (اسوسیئٹ پروفیسر شعبہ تاریخ‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ جناب وٹھل راؤ (صدر آریہ پرتینیدھی سبھا‘ آندھرا پردیش)‘ محترمہ سنگا مترا ملک (اعزازی سکریٹری‘ اپنا وطن)‘ محترمہ بندی لوتھر (شریک حیات‘ جناب نریندر لوتھر)‘ ڈاکٹر قرۃ العین حسن (کنسلٹنٹ ڈپارٹمنٹ آف جینیٹکس اینڈ مالیکیولر میڈیسن‘ کامنینی ہاسپٹل)‘ ڈاکٹر دلنواز برجور بھلاڈوالا (صدر شعبہ نیورو سرجری‘ کامنینی ہاسپٹل) کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ انڈیالاگ فاؤنڈیشن دراصل بین تہذیبی‘ بین الاقوامی و بین مذہبی مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کے دوروں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ ہمیں اس دورے نے ترکی اور وہاں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اقبال نے جس ترکی کو یوروپ کا مرد بیمار کہا تھا وہ اب بڑی تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہو رہا ہے۔ ترکی ایک طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ رہنے کے بعد اپنے وجود کو منوانے میں لگا ہے۔ ترکی‘ ناٹو کا واحد مسلم رکن ہے اور یوروپی یونین کا امیدوار رکن بھی ہے۔ ترکی معاشی طور پر ترقی یافتہ ہے۔ اس کی کرنسی لیرا کہلاتی ہے جو ہندوستان کے 30 روپئے کے برابر ہے۔ فی کس مجموعی ملکی پیداوار کا سالانہ تخمینہ 12,000 امریکی ڈالر ہے۔ جبکہ ہندوستان میں یہ تناسب سالانہ 2800 ڈالر ہے۔ ترکی میں گداگر کم ہی نظر آتے ہیں۔ قدرت نے اسے کئی قسم کی دولتوں سے نوازا ہے۔ حسن کی دولت سب سے نمایاں ہے۔ ترکی میں ہمیں استنبول‘ کونیا اور انقرہ جیسے شہروں میں مختلف افراد سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔
پیر 24؍ مئی 2010ء کی صبح 10:20 بجے ایمیریٹس ایئر لائنس کی پرواز کے ذریعہ ہمارا گروپ براہ دبئی استنبول روانہ ہوا۔ استنبول کے اتاترک انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے جب ہم باہر نکلے تو شام کے تقریباً 7 بج چکے تھے لیکن غروب آفتاب کے آثار نہیں تھے۔ ترکی‘ بالخصوص استنبول چونکہ جغرافیائی طور پر یوروپ کا حصہ ہے اسی لیے یہاں غروب آفتاب کافی دیر سے ہوتا ہے۔ ہمارے قیام کے دوران مغرب کی اذان رات 8:30 بجے ہوا کرتی تھی۔ یہ موسم گرما کے ابتدائی دن تھے۔ موسم کی شدت کے دوران اس وقت میں مزید توسیع ہوجاتی ہے۔ انڈیالاگ فاؤنڈیشن کے مقامی کو آرڈنیٹر نور الدین‘ وفد کے ہمراہ تھے۔ ایئر پورٹ پر جناب سریش ریڈی وفد میں شامل ہوگئے۔ (وہ پہلے ہی دبئی پہنچ چکے تھے۔) ایئر پورٹ کے باہر میزبان گروپ کے نمائندوں نے گرمجوشانہ خیر مقدم کیا اور بس کے ذریعہ ہمیں ہوٹل ’’کایا‘‘ پہنچادیا گیا۔ جو استنبول کے یوروپی حصے میں واقع ہے۔ اسی رات انڈو۔ترکش بزنس گروپ نے خلیج باسفورس کے ساحل پر واقع ریستوراں میں ڈنر کا اہتمام کیا۔ وہیں ہماری ملاقات دہلی سے آئے مزید دو مہمانوں سے ہوگئی۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام (اسوسیئٹ پروفیسر اردو‘ جواہر لال نہرو یونیورسٹی) اور ڈاکٹر رضوان الرحمن (اسسٹنٹ پروفیسر عربی‘ جے این یو) ایک بین الاقوامی ورکشاپ میں شرکت کے سلسلے میں ترکی آئے ہوئے تھے۔ ہمارے میزبانوں نے انہیں کچھ دن کے لیے حیدرآبادی وفد کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس طرح ہمارا گروپ ایک قومی نوعیت کا نمائندہ وفد بن گیا۔
منگل 25؍ مئی کی صبح ہوٹل میں ناشتے کے بعد ترکی کے ایک مشہور و مقبول ٹیلی ویژن گروپ ’’سمان یولو‘‘ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ اس گروپ کے تحت جملہ 6 چینل چلائے جاتے ہیں۔ اکین امرے کراغولے (انٹرنیشنل نیوز ایڈیٹر) نے استقبال کیا اور وفد کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گروپ میں شامل ڈاکٹر اے گوپال کرشنن‘ پیشے کے اعتبار سے نیوکلیئر سائنسداں ہیں اور امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ہاورڈ میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں۔ ایران کے نیوکلیئر تنازعے کے پس منظر میں ترکی کے اہم رول پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ تبادلہ خیال کے دوران جب ہمارے میزبان سے ڈاکٹر گوپال کرشنن کا تفصیلی تعارف ہوا تو انہوں نے نیوز چینل کے لیے انٹرویو کی فرمائش کردی۔ اسی دو پہر ہم استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع ’’ویو پوائنٹ‘‘ پہنچے جہاں سے خلیج باسفورس اور شہر کے یوروپی حصے کا نہایت دلفریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ استنبول دراصل ترکی کا سب سے بڑا اور بہ لحاظ آبادی دنیا کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ اس تاریخی شہر میں 12.8 ملین لوگ بستے ہیں۔ اس طرح یہ آبادی کے اعتبار سے یوروپ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے ترکی کے تہذیبی‘ معاشی اور مالیاتی مرکز کا بھی اعزاز ہے۔ یہ شہر صوبہ استنبول کے 39 اضلاع کا احاطہ کرتا ہے اور آبنائے باسفورس کے دہانے پر آباد ہے۔ قدرتی بندرگاہ جسے ’’گولڈن ہارن‘‘ (قرنِ طلائی) اسی کا حصہ ہے۔ دو بر اعظموں پر محیط دنیا کا یہ واحد شہر ہے۔ استنبول نے اپنی طویل تاریخ میں سلطنت روم‘ بازنطینی سلطنت‘ لاطینی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ (1453-1922ء) کے پایۂ تخت کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ سنہ 2010ء کے لیے استنبول کو یوروپ کا مشترکہ تہذیبی دارالحکومت منتخب کیا گیا ہے۔ استنبول کے تاریخی مقامات 1985ء میں یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل کیے گئے۔ ویو پوائنٹ سے خلیج باسفورس کے نظارے کے بعد دو پہر میں کشتی کے سفر کا پروگرام تھا۔ تیز ہواؤں کے بیچ خلیج باسفورس کی یہ سیر نہایت خوشگوار اور یادگار ثابت ہوئی۔ ہوا اس قدر تیز تھی کہ کشتی کے عرشے پر چلنا یا ٹھہرنا دشوار تھا۔ لیکن دونوں جانب کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے 4 تا 6 افراد عرشے پر ہی بیٹھے رہے۔
آبی گزرگاہ کی دونوں جانب استنبول کے یوروپی اور ایشیائی حصوں کا نظارہ نہایت دلفریب ہے۔ بالخصوص گنجان آبادی کے درمیان اپنے سر ابھارے مساجد کے مینار اس ملک میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت کا ثبوت ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ مساجد کی کثرت کے باوجود مصلیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسی دن ہم کو استنبول کے ایک اور تاریخی مقام ’’میدان ٹاور‘‘ کی بھی سیر کرائی جو گرلز ٹاور کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ ٹاور خلیج باسفورس میں یوروپ اور ایشیاء کے نکتہ اتصال پر واقع چھوٹے سے جزیرہ پر ہے۔ اسے استنبول کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا گواہ تصور کیا جاتا ہے۔ ٹاور کے تعلق سے کئی دلچسپ داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ منگل کی شام گروپ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا کیونکہ دو مختلف مقامات پر ترک خاندانوں نے ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ ہم جس گروپ میں تھے‘ اس کی ضیافت ایک ایسے خاندان کے سپرد کی گئی جہاں میاں‘ بیوی دونوں وکیل تھے۔ وحدت عروج اور ان کی بیگم نے نہایت پر تپاک انداز میں خیر مقدم کیا اور ذائقہ دار ترک پکوان کے ساتھ تواضع کی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ وحدت عروج کی بیگم‘ ایڈوکیٹ ہونے کے باوجود اپنے مکان میں مہمانوں کے روبرو اسکارف باندھے ہوئے اور سر تا پا ایک خوبصورت کوٹ میں ملبوس تھیں۔ اس خاندان میں دو ننھے بچے بھی تھے۔ وفد کے تمام ارکان ترک خاندان کی ضیافت اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ جناب وٹھل راؤ کے لیے خصوصی طور پر وجیٹیرین ڈش تیار کی گئی تھی۔ چہارشنبہ 26؍ مئی کی صبح استنبول کی مشہور ’’فاتح انٹر نیشنل یونیورسٹی‘‘ کے دورے کا موقع ملا۔ شعبۂ تاریخ کے سربراہ پروفیسر طوفان بزپینار اور کیمسٹری کے پروفیسر نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فاتح انٹرنیشنل یونیورسٹی ایک خانگی یونیورسٹی ہے جس کا قیام 1996ء میں عمل میں آیا۔ پروفیسر طوفان کے بموجب سلطان محمد دوم فاتح استنبول کو ترک عوام چونکہ اپنا محسن مانتے ہیں اسی لیے بیشتر ادارے ان سے منسوب ہیں۔ ترکی میں جہاں خواندگی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے سرکاری یونیورسٹیز کی تعداد 100 ہے۔ جبکہ خانگی جامعات جنہیں فاؤنڈیشن یونیورسٹی کہا جاتا ہے 50 کے قریب ہیں۔ پروفیسر حضرات نے اعتراف کیا کہ موجودہ دور میں سوشیل سائنسیس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ سماجی علوم کے محققین کو یونیورسٹی بھاری امداد فراہم کرتی ہے۔ جامعہ سے فارغ ہونے والے 98 فیصد طلبہ کو روزگار مل جاتا ہے۔ فاتح انٹرنیشنل یونیورسٹی نے یوروپ کی کئی جامعات کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے ساتھ بھی یادداشت مفاہمت ہو چکی ہے۔ 11 ہزار طلبہ میں 700 غیر ملکی ہیں۔ ترکی میں 13 سال کی عمر تک تعلیم سب کے لیے لازمی ہے۔ سرکاری جامعات‘ اعلیٰ سطح پر مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ خانگی یونیورسٹیز میں انٹرنس ٹسٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہے۔
فاتح یونیورسٹی کے دورے کے بعد ترکی کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ’’زمان‘‘ کے دفتر کا معائنہ اور سینئر ایڈیٹرس کے ساتھ تبادلہ خیال مقرر تھا۔ اخبار کے انتظامیہ نے اس ملاقات سے قبل پر تکلف ظہرانہ ترتیب دیا۔ بعد میں زمان اخبار کے فارن نیوز ایڈیٹر جلیل صغیر اور مشہور کالم نگار محمد کریم نے مہمان وفد کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترکی گذشتہ کئی دہائیوں کے انتشار کے بعد اب بتدریج مستحکم ہو رہا ہے۔ 1990ء کی دہائی تک ترکی میں سیاسی انتشار اور عدم استحکام تھا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ جو ان کے خیال میں ترک معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی بیداری کا نتیجہ ہے۔ دونوں سینئر صحافیوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کمال اتاترک کے سیکولر طرز حکومت نے ترک معاشرے کو زبردست نقصان پہنچایا۔ چونکہ سیکولرزم کے نام پر بعض مذہب بیزاروں نے تنگ نظری اور تعصب کی انتہاء کردی تھی۔ زمان میڈیا گروپ کے تحت ترک روزنامہ ’’زمان‘‘ شائع کیا جاتا ہے جس کی تعداد اشاعت 9 لاکھ ہے جو ترکی کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ ’’ٹو ڈے زمان‘‘ نامی انگریزی اخبار گذشتہ 3 برس سے کامیابی کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے جو ترکی کا سب سے بڑا انگریزی اخبار ہے۔ بین الاقوامی شہرت کی حامل نیوز ایجنسی ’’جیہان‘‘ اسی گروپ کی ملکیت ہے۔ ’’عکسیان‘‘ نیوز ویکلی کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ زمان گروپ یکم ؍ اکتوبر 2010ء سے ایک بین الاقوامی ماہنامہ شائع کر رہا ہے۔ محمد کریم نے دعویٰ کیا کہ زمان گروپ اپنی سماجی ذمہ داری بخوبی سمجھتا ہے اور اسے نبھارہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے کثیر مذہبی ورثہ کی ستائش کی اور وضاحت کی کہ وہ مذہب پسند ضرور ہیں لیکن اخبار و صحافت سیکولر ہیں۔ ترک سیاستدان بڑی حد تک روادار ہیں۔ لیکن فوج کا رویہ سخت گیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ترکی میں مذہبی بیداری کے نتیجے میں ’’سیکولر بنیاد پرستی‘‘ کا بتدریج خاتمہ ہو رہا ہے۔ ملک میں 1989ء تک خانگی ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلس کے قیام پر پابندی تھی۔ زمان گروپ کے دونوں سینئر صحافیوں نے بتایا کہ ترک عوام میں افقی اور عمودی تحریک پیدا ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں سے عوام بڑی تعداد میں شہر منتقل ہوئے ہیں۔ ممتاز عالم دین‘ دانشور اور امن کے علمبردار فتح اللہ گُلین کی تحریک نے سیاسی و دانشورانہ فکر کی تحریک میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ترک خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک معمول کے حالات کی بحالی کے ساتھ پڑوسی ممالک سے روابط میں بہتری اولین ترجیح ہے۔ ترکی ایک ایسا ملک ہے جس کے پڑوسیوں کی تعداد 8 ہے۔ ترکی میں اب فوج کی سیاسی اہمیت نہیں رہی۔ خارجہ پالیسی کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ قومی مفادات ایک طرف ہیں تو دوسری طرف حلیف ممالک کا مفاد ہے۔ سینئر ترک صحافیوں نے مصطفی کمال اتاترک کے دور میں اور ان کے انتقال کے بعد طویل عرصے تک موجود طرز حکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ اتاترک کو ’’خدا‘‘ اور حکمران جماعت کو مخصوص مفادات کا نگہبان بنادیا گیا تھا۔
تہذیبی ٹکراؤ کی نہیں‘ تہذیبوں کے اتحاد کی ضرورت
’’زمان‘‘ کے دفتر سے ہم سیدھے رائٹرس اینڈ جرنلسٹس فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچے جہاں اسماعیل طس اور احمد محرم نے استقبال کیا۔ اسماعیل طس‘ ڈائیلاگ یوریشیا کے جنرل سکریٹری ہیں جبکہ احمد محرم میڈیالاگ کے سکریٹری جنرل ہیں۔ تبادلہ خیال کے دوران احمد محرم نے ان کے ادارے کی مساعی کو تہذیبوں کے اتحاد کی ادنیٰ کوشش سے تعبیر کیا۔ اس کے ذریعہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ جناب احمد محرم نے ریمارک کیا کہ مذاکرات‘ زندہ رہنے کا واحد راستہ ہیں۔ ساری دنیا ایک کنبہ کی مانند ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ستیہ پرکاش نے ’’ہندوستان میں ذرائع ابلاغ‘‘ کے موضوع پر پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دیا۔ جو نہایت معلوماتی رہا۔ جناب سریش ریڈی نے فتح اللہ گُلین اور ان کی تحریک کی ستائش کی اور کہا کہ ایسی ہی تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے امن اور مذاکرات کے لیے حقیقی کوششیں کر رہے ہیں۔ چہارشنبہ کی رات بھی وفد دو گروپس میں منقسم ہوکر استنبول کے علیحدہ حصوں میں ترک خاندانوں کی ضیافت سے محظوظ ہوتا رہا۔
جمعرات کی صبح استنبول کے عالمی شہرت یافتہ تاریخی مقامات کی سیر کے لیے نکل پڑے۔ سب سے پہلے قصر توپ کاپی کا رخ کیا۔ ترک زبان میں اسے توپ کاپی سرائے کہتے ہیں۔ محل کو سرائے سے تعبیر کرنا دنیا کے عارضی پن کی دلالت کرتا ہے۔ توپ کاپی دراصل سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں کی تقریباً 400 برس تک سرکاری قیامگاہ تھا۔ اب اسے میوزیم بنادیا گیا ہے۔ یہی وہ میوزیم ہے جہاں حضور ﷺ کے آثار مبارک ساری دنیا کے مسلمانوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ حضور صلعم کی تلوار ‘ زرہ بکتر اور پائے مبارک کے نشان بھی یہاں محفوظ ہیں۔ چاروں خلفائے راشدین کی تلواروں کے علاوہ حضرت موسیٰؑ کا عصا‘ حضرت یوسفؑ کا عمامہ اور اسلامی تاریخ کا ایک بیش بہا خزانہ یہاں محفوظ ہے۔ توپ کاپی کی تعمیر فاتح استنبول سلطان محمد دوم کے حکم پر 1459ء میں شروع ہوئی۔ سترہویں صدی میں عثمانی فرمانروا یہاں سے باسفورس کے ساحل پر تعمیر کردہ نئے محلوں میں منتقل ہوگئے۔ توپ کاپی میوزیم میں سیاحوں کا ہجوم تھا۔ وہاں سے نکل کر ایک اور تاریخی عمارت ’’آیا صوفیہ‘‘ پہنچے۔ جو ماضی میں عیسائی گرجا گھر اور مسجد رہ چکا ہے۔ 360 تا 1453ء آیا صوفیہ‘ قسطنطنیہ کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔ 29؍ مئی 1453ء تا 1934ء اسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ 1935ء میں اسے میوزیم بنادیا گیا۔ آیا صوفیہ اپنے زبردست گنبد کے لیے مشہور ہے جو بازنطینی فن تعمیر کی سب سے بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس عمارت نے فن تعمیر کی تاریخ کو بدل کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسے دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کا اعزاز حاصل رہا۔ آج بھی آیا صوفیہ کی گنبد کے اندرونی حصے پر عیسائی مذہبی تصاویر کے علاوہ اللہ‘ محمدؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ناموں کے بڑے کتبے موجود ہیں۔ 1453ء میں جب عثمانی ترک اور سلطان محمد دوم نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ کئی عیسائی مذہبی علامتوں کو ہٹاتے ہوئے محراب‘ منبر اور بیرونی حصے میں چار میناروں کا اضافہ کیا گیا۔ آیا صوفیہ کی سیر کے بعد خلیج باسفورس کے دونوں کناروں کو جوڑنے والے ایک پل کے نیچے بنی ریستوراں میں لنچ کیا ۔ اس علاقہ میں جہاں دونوں طرف سمندر کا نیلگوں پانی نظر آتا ہے‘ استنبول کے کئی نہایت مشہور ریستوراں ہیں۔ جہاں مچھلیوں کی مختلف اقسام پر مشتمل ڈشس تیار کی جاتی ہیں۔ جس وقت ہم بندرگاہ سے گزر رہے تھے تب وہاں 16 مختلف ممالک سے آئے 23 تاریخی جہازوں کا ایک بیڑہ وہاں پہنچا۔ وہ ایک بین الاقوامی Regatta کے حصے کے طور پر آبنائے باسفورس میں لنگر انداز تھا۔ لنچ کے بعد استنبول کی علامت سمجھی جانے والی سلطان احمد مسجد (نیلی مسجد) پہنچ گئے۔ یہ مسجد سلطان احمد اول کے دور میں 1609ء اور 1616ء کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں ساری دنیا سے آنے والے سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ آج بھی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ ترکی مساجد میں خواتین کیلئے خصوصی گوشہ ہوتا ہے۔ نماز کے دوران سیاحوں کی آمد بند کردی جاتی ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے روضہ پر حاضری
دہلی سے آنے والے مہمانوں ڈاکٹر خواجہ اکرام اور ڈاکٹر رضوان الرحمن نے ہمیں پہلے ہی دن بتادیا تھا کہ مدینہ منورہ میں میزبان رسولؐ حضرت ابو ایوب الانصاریؓ کا روضۂ مبارک استنبول میں موجود ہے۔ اس کی زیارت کے بغیر استنبول کا سفر بے معنی ہے۔ نتیجتاً جمعرات کی شام جب وفد کے دیگر افراد خریداری میں مصروف ہوگئے تو ہم نے اپنے میزبان نور الدین کے ہمراہ حضرت ابو ایوب کے روضہ پر حاضری دی۔ قارئین اس بات سے واقف ہوں گے کہ یہ وہی صحابئ رسولؐ ہیں جنہیں حضور صلعم کی مدینہ ہجرت کے بعد ان کی میزبانی کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ حضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ اور اس کے پیام کے دفاع میں لگادی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور میں جب اسلامی فوج نے شام‘ فلسطین اور مصر فتح کیا تو وہ فوج کا حصہ تھے۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ کے دور میں قبرص کی فتح میں بھی حصہ لیا تھا۔ حضرت علیؓ نے عراق میں اپنے قیام کے دوران حضرت ابو ایوبؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب صدر مقرر کیا تھا۔ انہیں مسجد نبویؐ کی امامت کا بھی اعزاز حاصل رہا۔ ضعیف العمری کے باوجود حضرت ابو ایوبؓ سال میں کم از کم ایک مرتبہ جہاد میں حصہ لیتے۔ 49ھ میں استنبول کے محاصرے کے دوران جب ان کی عمر 80 سال سے زائد تھی انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ میزبان رسولؓ سے جب وہ زخموں سے چور ہوچکے تو ان کے ساتھیوں نے آخری خواہش دریافت کی تو حضرت ابو ایوبؓ نے کہا کہ انہیں استنبول شہر کی فصیل کے نزدیک سپرد لحد کیا جائے۔ بازنطینی شہنشاہ نے جب مسلم فوج کی بڑی تعداد کو جنازے میں شریک دیکھا تو اس نے اپنے جاسوس بھیجے۔ اسے بتایا گیا کہ صحابی رسولؓ شہید ہوئے ہیں اور انہیں وصیت کے مطابق فصیل شہر کے قریب سپرد لحد کیا جارہا ہے۔ بازنطینی شہنشاہ کانسٹنٹینوس چہارم نے مسلمانوں کے لشکر کو پیام بھیجا کہ ان کی فوج کی واپسی کے بعد وہ حضرت ابو ایوبؓ کی قبر کی بے حرمتی کرے گا۔ جس پر مسلم فوج کے سپہ سالار نے وارننگ دی کہ اگر ایسی کوئی حرکت کی گئی تو مسلمان علاقوں میں عیسائیوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انتباہ کارگر ثابت ہوا اور بازنطینی فرمانروا اپنے ناپاک ارادے سے باز آگیا۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد حضرت ابو ایوبؓ کی قبر کا نشان مٹ گیا تھا۔ حضرت ایوبؓ کی شہادت کے تقریباً 800 سال بعد سلطان فاتح محمد نے استنبول کا محاصرہ کرلیا۔ سلطان اس بات سے واقف تھا کہ حضرت ابو ایوبؓ نے اسی علاقے میں جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس نے صحابیؓ رسول کی قبر کی بازیافت کا تہیہ کرلیا۔ تاہم شہر کے محاصرے نے اسے مہلت نہیں دی۔ ممتاز ترک شاعر یحییٰ کمال کے مطابق جب محاصرہ طویل اور صبر آزما ہوگیا تو سلطان کے پیر و مرشد شمس الدین نے کشف کے ذریعہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک کا پتہ چلا لیا۔ عثمانی فوج میں جیسے ہی یہ خبر پھیلی سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور استنبول مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ ترکوں کے لیے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کے بعد حضرت ابو ایوبؓ کی مزار مبارک اور اس سے متصل ایوب سلطان مسجد چوتھا مقدس ترین مقام ہے۔ ترک عوام‘ حضرت ابو ایوبؓ کو ایوب سلطانؓ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور انہیں استنبول کی روح قرار دیا جاتا ہے۔ ترک عوام کے خیال میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوبؓ کو استنبول کے لیے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔
کونیا میں آدھا دن
جمعرات کی شب استنبول سے سڑک کے راستے اناطولیہ کے شہر کونیا روانہ ہوئے جو مشہور صوفی شاعر و فلسفی مولانا جلال الدین رومی کا مرکز ہے۔ یہیں ان کا مزار بھی ہے جہاں مختلف ممالک کے عقیدتمند حاضری دیتے ہیں۔ کونیا شہر دراصل سلجوق خاندان کا پایۂ تخت رہا ہے۔ یہ نہایت صاف ستھرا شہر ہے۔ فضاؤں میں پاکیزگی اور روحانیت کی مہک ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ استنبول سے کونیا کا سفر مختصر ہوگا لیکن جب سورج چڑھنے کے باوجود کونیا کے آثار نظر نہیں آئے تو وفد کے ارکان نے ڈرائیور سے فاصلہ دریافت کیا۔ تب ہمیں پتہ چلا کہ یہ 800 کلو میٹر کا سفر ہے۔ تاہم سرسبز وادیوں اور خوبصورت نظاروں نے سفر کی طوالت اور تھکان کا احساس بڑی حد تک دور کردیا۔ ترکی میں معاشی خوشحالی کا یہ عالم ہے کہ قومی شاہراہ کے آس پاس چھوٹے چھوٹے قریہ میں بھی جہاں 10 تا 15 مکانات ہوں عالیشان ’’ولا‘‘ تعمیر کیے گئے ہیں۔ کچے مکانات دیہی علاقوں میں بھی نظر نہیں آتے۔ ایک اور خوبی یہ ہے کہ ہر چھوٹی بڑی آبادی میں مساجد نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ جمعہ کا دن تھا تقریباً 12 بجے کونیا پہنچے اور سیدھے مولانا یونیورسٹی کا رخ کیا۔ یہ جامعہ‘ مولانا جلال الدین رومی سے معنون ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر بہا الدین آدم وائس چانسلر اور سرہاد تیکی لیوغلو جنرل سکریٹری نے خیر مقدم کیا۔ یہ یونیورسٹی حال ہی میں قائم ہوئی ہے۔ گُلین تحریک سے وابستہ ایک تاجر نے عارضی طور پر ایک وسیع عمارت جو شاپنگ مال کے لیے تعمیر کی گئی تھی‘ یونیورسٹی کے استعمال کے لیے بلا معاوضہ دے دی ہے۔ مستقل عمارت کی عنقریب تعمیر ہوگی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ ابتدعاً سائنس اور انجینئرنگ کے کورسس شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ میں گُلین تحریک اور اس سے وابستہ افراد کے رول اور بے لوث خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی ٹرسٹ کے ارکان جب کبھی کسی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ ناشتہ کی قیمت تک اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں تو وفد کے ارکان اپنی حیرت چھپانہ سکے۔ پروفیسر خالد سعید نے اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر محمد میاں وائس چانسلر کی وساطت سے مولانا رومی یونیورسٹی کے ساتھ یادداشت مفاہمت کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر بہاء الدین اور جناب سرہاد نے اس تجویز پر خوشنودی ظاہر کرتے ہوئے گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ پروفیسر خالد سعید نے چار مینار کا یادگار تحفہ بھی میزبان جامعہ کے عہدیداروں کو پیش کیا۔ گیسٹ ہاؤز میں کچھ دیر سستانے کے بعد مولانا رومی کی مزار پر حاضری دینے روانہ ہوگئے۔ جمعہ کی شام مولانا جلال الدین رومیؒ مغرب میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مسلمان شاعر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے خالق کے لیے مخلوق سے محبت پر زور دیا۔ مولانا جلال الدین رومی کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد متصل میوزیم کا معائنہ کیا جہاں قرآنِ مجید کے نہایت نادر نسخے رکھے ہیں۔ ان میں حیدرآباد کے 8 ویں نظام نواب میر برکت علی خان کے عطیہ کردہ نادر نسخے بھی شامل ہیں۔ مولانا رومی کے مزار سے نکلنے کے بعد وسیع صحن میں ہمارے میزبان نور الدین نے تصوف کے موضوع پر بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے بتایا کہ تصوف کے معنی یہ نہیں کہ آدمی شریعت اور شرعی قوانین سے بے بہرہ ہوجائے۔ مولانا رومی کے آستانے سے ہم سیدھے ایک اسکول پہنچے۔ یہ اسکول بھی گُلین تحریک سے وابستہ گروپ چلا رہا ہے جس کا شمار ترکی کے نہایت معیاری مدارس میں ہوتا ہے۔ اسکول کی ہمہ منزلہ نہایت خوبصورت عمارت کو دیکھنے سے میڈیکل یا انجینئرنگ کالج کا گماں ہوتا ہے۔ چونکہ شام کا وقت تھا۔ جماعتوں کو چھٹی ہوچکی تھی لیکن چوتھی منزل پر ننھے بچے ثقافتی پروگرام پیش کر رہے تھے۔ کونیا کے تاجر مولود شیران کی خوبصورت قیامگاہ پر رات کے کھانے کے بعد ہمارا گروپ ترکی کے دارالحکومت انقرہ روانہ ہوگیا۔ مشہور سوشیل نیٹ ورکنگ سروس ’’Orkut‘‘ تیار کرنے والے سافٹ ویئر انجینئر اورکت بایوککوکتین کا تعلق کونیا ہی سے ہے۔
انقرہ کے شب و روز
انقرہ ترکی کا دوسرا بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ اناطولیہ علاقہ کا وسیع حصہ ہے۔ اسی شہر میں تمام غیر ملکی سفارتخانے بھی ہیں۔ کونیا سے انقرہ پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئی۔ یہاں ہمیں ایک عمدہ گیسٹ ہاؤز میں ٹھہرایا گیا۔ ہم نے ہندوستان میں ہمہ پہلو سیکیوریٹی Multi layer security دیکھی تھی لیکن پاکی اور صفائی کا ہمہ پہلو نظام ترکی میں دیکھنے کو ملا۔ گیسٹ ہاؤز میں داخل ہوتے ہی جوتے اتارنے پڑے۔ کپ بورڈ میں رکھی مخصوص چپل پہننے وک دی گئی۔ بیت الخلاء میں استعمال کیلئے ایک علیحدہ ربر سے بنایا ہاف شو رکھا ہوا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ گیسٹ ہاؤز کے تمام کمروں میں باتھ روم تو اٹیچ تھا لیکن بیت الخلاء کمروں سے دور فاصلے پر تھے۔ مزید یہ کہ بیت الخلاء ہندوستانی طرز کے تھے۔ ویسٹرن اسٹائل سے گریز کیا گیا تھا۔ سمان یولو اسکول کے ہاسٹل میں بھی صفائی کا یہی نظم ہے۔ ناشتے کا اہتمام ترک تاجر اسماعیل سرغان کی قیامگاہ پر کیا گیا۔ ہمارا گیسٹ ہاؤز سمان یولو ہائی اسکول (انقرہ) کی شاندار عمارت سے متصل تھا لیکن سینچر ہونے کے باعث اسکول بند تھا۔ دو پہر میں جدید ترکی کے معمار مصطفی کمال اتاترک کے مقبرے پر پہنچے۔ جسے انقرہ میں سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ اتاترک کی آخری قیامگاہ رومن طرز تعمیر کی یاد دلاتی ہے۔ اتاترک کے کئی ’’کارناموں‘‘ میں ترکی کو سیکولر جمہوریت میں تبدیل کرنے کے علاوہ ترک زبان کے رسم الخط کی تبدیلی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترکی میں خواندگی کی زبردست شرح کے باوجود عوام کی بڑی اکثریت عربی اور فارسی رسم الخط سے نابلد ہے۔ ترکوں کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ لفظ اردو‘ ترک زبان کی دین ہے۔ دو پہر میں ’’کوجا تی پے‘‘ مسجد پہنچے جسے مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر انقرہ کے مشہور اناطولین سیویلائیزیشن میوزیم کی بھی سیر کی۔ جہاں قدیم ترک تاریخ کے آثار محفوظ کیے گئے ہیں۔ واپسی میں انقرہ کے قدیم شہر کا بھی نظارہ کیا۔
اتوار کی صبح انقرہ میں 8 ویں انٹرنیشنل ترک اولمپیاڈ میں ثقافتی نمائش کا معائنہ کیا۔ تقریباً 120 ممالک شریک تھے۔ ہم جس وقت وہاں پہنچے ثقافتی پروگرام نہیں ہو رہے تھے لیکن مختلف ممالک کے اسٹالس پر زبردست رونق تھی۔ عراق کا اسٹال سب سے زیادہ پرہجوم تھا۔ ہندوستان کے اسٹال کے باہر دہلی کے ایک اسکول کی لڑکی الیزا‘ ترک خواتین کے ہاتھوں پر مہندی کے ڈیزائن ڈال رہی تھی۔ پاکستان کے اسٹال پر بھی یہی منظر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اولمپیاڈ میں شامل تمام اسکول وہی ہیں جو مختلف ممالک میں ترکی اور گُلین تحریک نے قائم کیے ہیں۔ دو پہر میں ترک پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نوزاد پکدیل نے ہوٹل میں مہمان وفد کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے ہندوستانی جمہوریت اور کثرت میں وحدت کے جذبے کی ستائش کی۔ اس موقع پر جناب نریندر لوتھر نے ہند ۔ ترکی تعلقات اور بالخصوص نظام حیدرآباد کے ترک روابط پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ساتویں نظام میر عثمان علی خان نے اپنے دونوں صاحبزادوں کی شادی سلطنت عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان عبدالمجید کی صاحبزادی اور بھتیجی سے پیرس میں کی تھی۔ جناب نوزاد اگرچہ حکمراں جماعت کے ایک سینئر لیڈر ہیں لیکن ان کے ساتھ کوئی سیکیوریٹی نہیں تھی۔ مہمان وفد کے ساتھ تبادلہ خیال سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ بعد میں انقرہ کے ایک ہاسپٹل کے ہمارے دورے میں شامل ہوگئے۔
فتح اللہ گُلین کون ہیں؟
قارئین کو یقیناًاس بات کی جستجو ہوگی کہ محمد فتح اللہ گُلین آخر کون ہیں جن کا ہم بار بار تذکرہ کرچکے ہیں۔ انہی کی تحریک سے وابستہ گروپ انڈیالاگ نے ہمارے دورے کا اہتمام کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ترکی میں جتنے اسکول‘ میڈیا اداروں‘ جامعات‘ دیگر اداروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ہماری ملاقات کروائی گئی ان کا تعلق اسی تحریک سے تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ گُلین کے حامی اور پیرو‘ ترکی کے موجودہ مذہب پسندانہ کردار میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ فتح اللہ گُلین 1941ء میں اناطولیہ کے موضع میں ایک نہایت مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن‘ تفسیر‘ حدیث‘ فقہ اور تصوف پر دسترس حاصل کی۔ 1959ء میں انہیں محکمہ مذہبی امور نے مبلغ کی سند عطا کی۔ 18 سال کی عمر میں وہ ایک مسجد کے امام مقرر کیے گئے۔ ترک دانشور‘ فلسفی اور امن کے علمبردار فتح اللہ گُلین نے ملک اور بین الاقوامی سطح پر انسانی شخصیت پر مرکوز ایک سماجی سیول تحریک کا آغاز کیا ہے۔ وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور امن عالم کے علمبردار ہیں۔ فتح اللہ گُلین نے زائد از 20 برس تک مختلف مساجد میں خطیب و امام کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسی دور میں ان کے رفقاء کی بڑی تعداد تیار ہوگئی۔ حالیہ عرصے میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ان کا ساتھ دینے لگے۔ گُلین اپنی تحریک کو رضاکاروں کی برادری قرار دیتے ہیں جنہوں نے دوسروں کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ وہ خود کو قائد نہیں کہتے۔ اسلامی یا مذہبی تحریک کا لیبل لگانے کے بجائے وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور انسانی شخصیت سازی پر اپنے کام اور مساعی کو مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ گُلین تحریک کے زیر اثر نہ صرف ترکی بلکہ ساری دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں ترک انتظامیہ کے اسکول قائم ہیں۔ وسطی ایشیاء اور آفریقہ میں اس گروپ نے زبردست تعلیمی خدمات انجام دی ہیں۔ ہمارے رابطہ کار نور الدین‘ جن کا تعلق کرغزستان سے ہے‘ اسی تحریک کے قائم کردہ اسکول سے فارغ ہیں۔ قارئین کو یہ جان کر شاید تعجب ہوگا کہ حیدرآباد میں بھی اس تحریک کی ضمنی تنظیم نے Learnium کے نام سے 3 اسکول قائم کیے ہیں۔ فتح اللہ گُلین اور ان کی تحریک کے بارے میں ہمارا مشاہدہ اور مطالعہ فی الحال محدود ہے اس تعلق سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے (قارئین ویب سائٹ www.fgulen.com پر مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں جہاں اردو لنک بھی دستیاب ہے) ۔ ترکی کے دورے میں ہم نے ایک ایسے مسلم ملک کا مشاہدہ کیا جو خواب غفلت سے بیدار ہو رہا ہے۔ جہاں کا معاشرہ خود غرضی اور نفسا نفسی کے بجائے بے لوث خدمت کے جذبے پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیبوں کے تصادم کی گوج کے دور میں ترکی کی سرسبز وادیوں سے تہذیبوں کے اتحاد کے نعرے کی صدا سنائی دے رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس طرح کی کوششیں جو کہ غیر سرکاری سطح پر کی جارہی ہیں بارآور ثابت ہوں گی۔
وطن سے دور ہم وطنوں سے شناسائی
ترکی کے دورے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ 12 رکنی وفد کے بیشتر ارکان ایک دوسرے سے شخصی طور پر ناواقف تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ سفر سب کے لیے نہ صرف یادگار ثابت ہوا بلکہ وطن سے دور ہمیں اپنے برادران وطن کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا۔ ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہم اپنے معاشرے میں کس قدر الگ تھلگ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک دوسرے سے تعارف اور شناسائی کے لیے شاید اب سات سمندر پار کرنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں جناب سریش ریڈی جیسے سینئر سیاست دان کے علاوہ جناب تراب الحسن اور جناب نریندر لوتھر کی شکل میں دو بزرگ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار بھی تھے۔ ڈاکٹر اے گوپال کرشنن نے جو انگریزی اخبارات کے کالم نگار بھی ہیں‘ بین الاقوامی مسائل پر اپنی گہری نظر کے ذریعہ نہ صرف میزبانوں کو بلکہ وفد میں شامل دیگر ارکان کو بھی متاثر کیا۔ اُردو ادب اور درس و تدریس کے حلقوں میں پروفیسر خالد سعید کا نام محتاج تعارف نہیں۔ ڈاکٹر سنجے سبودھ ہندوستان کی عہد وسطیٰ کی تاریخ کے ماہر ہیں ۔ ڈاکٹر ستیہ پرکاش نوجوان اور معلومات سے لیس اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر قرۃ العین حسن اور ڈاکٹر دلنواز ہمیشہ وفد میں Live Wire کا کام کرتیں۔ جناب نریندر لوتھر کی شریک حیات‘ محترمہ بندی لوتھر کو جب بھی موقع ملتا ملک کی تقسیم سے قبل پاکستان میں عمر کے ابتدائی حصے کو یاد کرتیں اور حالیہ عرصے میں دورۂ پاکستان کے قصے سناتیں۔ محترمہ سنگا مترا ملک ایک سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی گلوکارہ بھی ہیں۔ دوران سفر انہوں نے کئی مرتبہ سریلے نغمے چھیڑ کر سماں باندھ دیا۔ ڈاکٹر قرۃ العین حسن، جنہیں گھر والے اور قریبی دوست عینی کہتے ہیں‘ ہمیشہ اپنے والد محترم جناب تراب الحسن کی فکر میں رہتیں۔ تاہم ’’بابا‘‘ (تراب الحسن صاحب) کے جوش کا یہ عالم تھا کہ پانچویں منزل پر لفٹ کے بغیر منٹوں میں پہنچ جاتے۔ جبکہ ان سے کافی کم عمر افراد بھی سیڑھیاں چڑھنے میں تردد کا مظاہرہ کرتے تھے۔ جناب نریندر لوتھر نہایت نرم خو اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بھی پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ملک کی تقسیم سے قبل پنجاب کے اُس علاقے میں پیداہوئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ اردو کے علاوہ عربی اور فارسی جانتے ہیں۔ ان کے والد محترم عربی اور فارسی کے عالم اور قرآن کے مترجم تھے۔ انہوں نے قرآن مجید اور بھگوت گیتا میں پائے جانے والے مشترکہ نکات قلمبند کیے تھے۔ وفد میں جناب وٹھل راؤ کی شخصیت بھی نہایت متاثر کن تھی۔ سادہ لباس اور سادہ مزاج شخصیت کے مالک وٹھل راؤ نہایت کٹر سبزی خور ہیں۔ ساتھیوں کے کام آنا ان کی عین فطرت ہے۔ پیر 31؍ مئی کی صبح 8 بجے انقرہ سے بذریعہ بس ہم استنبول روانہ ہوئے۔ سنگا مترا ملک نے مکیش کے مشہور گیت سہانہ سفر اور یہ موسم حسیں۔۔۔ کے ذریعہ اس حسین سفر کی بخوبی ترجمانی کی۔ پروفیسر خالد سعید نے جو ایک اچھے شاعر بھی ہیں‘ منتخب اشعار سناکر سب کو محظوظ کیا لیکن ہماری حیرت کی اس وقت کوئی انتہاء نہیں رہی جب خالد سعید صاحب نے بس میں موجود مائک تھام کر محمد رفیع کے چند یاد گار گیت نہایت سلیقے سے پیش کیے۔ اس طرح شام 4 بجے استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے سے ہم دوبئی روانہ ہوئے۔ ترکی کے دورے کی ڈھیر ساری یادیں سمیٹے منگل یکم ؍ جون 2010ء کی صبح 9 بجے شمس آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد ہمارا یہ سفر اختتام کو پہنچا۔

کہیں ہم ناکام نہ ہوجائیں!: محمد آصف ریاض

کہیں ہم ناکام نہ ہوجائیں!
محمد آصف ریاض
asif343@gmail.com
09990431086
ایک عرصہ سے میں یہ سوچتا رہا ہوں کہ آخر یہ کیوں کر ممکن ہوا کہ انسان ہواؤں میں اڑنے لگا؟وہ پانیوں میں سرگرم ہوگیا؟وہ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملات کرنے لگا؟وہ پلک جھپکتے ہی ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے لگا؟
ان سوالات کا جواب پانے کے لئے میں نے خدا کے تخلیقی منصوبہ پر غور کرنا شروع کردیا۔چنانچہ بہت غور و خوض کے بعد مجھے اپنے سوالوں کا جواب مل گیا۔واقعہ یہ ہے کہ خدا نے جب اس زمین کی تخلیق کی تو اپنے ابتدائی دور میں یہ زمین وہ نہیں تھی جس پر آج ہم اور آپ چلتے پھرتے ہیں ۔سائنسدانوں کے مطابق اپنے ابتدائی دور میں یہ زمین آگ کا گولہ تھی!۔اگر اس پر انسان کو بسا یا جا تا تو انسان جل بھن کر راکھ ہوجاتا۔خدا نے یہاں انسانوں کو بسانے کے لئے ایک پروسس چلا یا۔آسمان سے پانی برسا یا گیااور سمند ر بہائے گئے ۔ ماحولیات کو متوازن رکھنے کے لئے درخت اگائے گئے ۔رفتہ رفتہ زمین سرد ہوگئی یہاں تک کہ انسان کو اس پر بسا نا ممکن ہوا۔لیکن یہ کام اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے لئے بھی ایک پروسس چلایاگیا۔زمین چونکہ ابتدائی دور میں گرم تھی اس لئے پہلے اس پر جناتوں کو بسا یا گیا۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے چنانچہ اس وقت زمین پر بسانے کے لئے وہ ایک فیٹسٹ(Fittest (مخلوق تھی !وہ انسانوں کی
بہ نسبت ہیٹ کو زیادہ برداشت کر سکتی تھی چناچہ خدانے اس زمین پر انسانوں سے پہلے جناتوں کو بسایا۔
جناتوں کو بلاسبب اس زمین پر نہیں بسا یا گیا تھا۔خدا کسی چیز کی تخلیق بلا سبب نہیں کرتا!اس کے ہر کام میں اعلیٰ تفکر پا یا جا تا ہے ۔اس کا کوئی کام بے مقصد نہیں ہوتا۔جیسا کہ قرآن میں ہے کہ ’’ہم نے دنیا کو کھیل تماشا کے طور پر نہیں بنا یا ۔اگر ہمیں یہی کرنا ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس ہی کر لیتے‘‘۔اوریہ کہ ’’تم آسمان کی طرف اپنی نگاہ اٹھا کر دیکھو ،تمہیں اس میں کوئی خلل نظر نہیں آئے گا ،سو تم ایک بار پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک ہار کرتمہاری ہی طرف لوٹ آئے گی اور تم خدا کی تخلیق میں کوئی خلل نہیں ڈھونڈ پاؤگے‘‘(سورہ ملک)
خدا نے جناتوں کو ایک عظیم منصوبہ کے تحت اس زمین پر بسا یا تھا۔
وہ منصوبہ کیا تھا ؟
وہ منصوبہ یہ تھا کہ وہ زمین پر خداکے شکر گزار بندے بن کر رہیں۔وہ خدائی پیغام کو عام کریں،وہ کفر کی روش اختیار نہ کریں، وہ لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کریں، وہ لوگوں کوبھلائی کی طرف بلائیں اور انھیں برائی سے روکیں،لیکن جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات خدائی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے! وہ خدائی منصوبہ کو امپلی مینٹ نہ کر سکے،انھوں نے کھانے پینے اور کھیل تماشے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ انھوں نے شکر کے بجائے کفر کی روش اختیار کی ۔انھوں نے معرفت الہی کو پانے کے بجائے دنیا کو اپنی سرگرمی کا مرکز بنایا۔چنانچہ ان پر خدا کا غضب نازل ہوا۔وہ زمین پر Rejected lot بن کر رہ گئے ۔انھیں مسترد کردیا گیا۔ وہ امتحان میں ناکام ہوئے چنانچہ انھیں ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹا دیا گیا۔
خدا نے انھیں بڑی طاقت سے نوازاہ تھا۔انھیں پنکھ نہیں دیا گیا تھا لیکن وہ آسمان پر اڑتے تھے۔ مچھلیوں کی طرح ان کی بناوٹ نہیں تھی لیکن وہ سمندر میں دوڑتے پھرتے تھے۔وہ اتنے طاقتور تھے کہ ایک چیز کو پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے تھے۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے کہا (جس میں جنات اور انسان دونوں تھے)، کون ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت اٹھا کر لے آئے تو ایک جنات نے کہا کہ ’’میں دربار ختم ہونے سے پہلے پہل اس کا تخت اٹھا لاؤں گا‘‘۔اس بیان سے جناتوں کی قوت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں میل کے فاصلہ پر رکھے ایک تخت کو وہ پل بھر میں لانے کی بات کر رہے ہیں۔مزید وضاحت کے لئے دیکھئے ،(سورہ نمل) ۔
خدا نے انھیں عظیم ذمہ داری دی تھی اور اس کے ساتھ ہی انھیں اختیارات بھی دئے تھے کہ بغیرقوت ا وراختیارات کے ذمہ داری کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جنات اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے اور مغضوب ہوئے ۔
اب ان کی سیٹ پر انسان کو بیٹھا یا گیا تاکہ جس خدائی منصوبہ کو امپلی مینٹ کر نے میں جنات ناکام رہے تھے، انسان اسے کامیابی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچائے۔چنانچہ ضروری تھا کہ انھیں بھی وہ اختیارات دئے جاتے جو جناتوں کو دئے گئے تھے۔انسان جناتوں کی طرح پانی میں دوڑ بھاگ نہیں کر سکتاتھا۔وہ ان کی طرح آسمان میں نہیں اڑ سکتا تھا۔وہ ان کی طرح دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملات نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ پلک جھپکتے ہی ایک چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں بھیج سکتا تھا۔ چنانچہ خدا نے اسے لوہے کا علم سکھا یا تاکہ وہ اس سے جہاز بنائے اور پانی میں دوڑے۔خدانے اسے پٹرولیم ،گیس اور توانائی کا استعمال بتا یا تا کہ وہ آسمان میں پرندوں کی طرح بلکہ ان سے زیادہ سرعت سے اڑے۔انھیں کمیونی کیشن کے ایج میں پہنچا یا تا کہ وہ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملات کرے اور ایک سامان کو پلک جھپکتے ہی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا دے!
مثلاً کل مجھے اچانک ایک ایسی دستاویز کی ضرورت پڑ گئی جو پٹنہ میں رکھی تھی اور میں دلی میں بیٹھا تھا ۔مجھے گھبراہٹ ہوئی ۔ میں نے فوراً اپنے ایک دوست کوفون کیا ۔اس نے کہا گھبراؤ مت تم اپنے کمپیوٹر پر بیٹھے رہو میں پلک جھپکتے ہی اسے بھیج رہا ہوں اور اس نے واقعی ایسا ہی کیا۔مجھے اس واقعہ پر اس علم والے کی بات یاد آگئی جس نے سلیمان کے دربار میں جنات کے مقابلہ میں کہا تھا کہ میں پلک جھپکتے ہی اسے لادوں گا اور اس نے واقعی ایسا ہی کیا تھا۔ملاحظہ فرمائیں (سورہ نمل)
خدانے جنات کو ہٹا کر انسان کو پورے اختیارات کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیا ہے۔ اب انسان جناتوں کی طرح ہی حالت امتحان میں ہے ۔اگر انسان خدائی منصوبہ کو امپلی منٹ کر نے میں ناکام رہا۔اگر اس نے شکر کے بجائے کفر کی روش اختیار کی تو اسے بھی مسترد کردیا جائے گا اور اسے جہنم کی اس آگ میں ڈال دیا جائے گا جو بہت سیاہ اور کالی ہے ،جہاں آدمی کو اپنا ہاتھ بھی نظر نہ آئے گا!

ولی لیکس کے افشا کے بعد امریکہ لائق سزا وار ۔تیشہ فکر: عابد انور


بڑی طاقتوں کی سب سے بری عادت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے غلط کاموں، ظلم و ستم، نازیباسلوک، غیر انسانی فعل ، انسانی حقوق کی پامالی اور دیگر سنگین جرائم کو کبھی بھی نہیں تسلیم کرتی اور وہ جو کام بھی کرنا چاہتی ہے کرگزرتی ہے خواہ اس پر دنیا کچھ بھی کہے، کتنے ہی واویلا کیوں نہ مچائے اور عالمی پیمانے اس کی کتنی بھی مذمت کیوں نہ کی جائے اس سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہی صورت حال اس وقت امریکہ اور اسرائیل کا ہے ۔ یہی رویہ دونوں ملکوں کی تباہی کی عبارت لکھ رہا ہے لیکن دونوں نے اپنی آنکھوں پر اتنی دبیز پٹی باندھ رکھی ہے وہ نوشتہ دیوارپڑھنے سے قاصر ہے یا جان بوجھ پڑھنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ اگر کوئی اسے دکھانے کی کوشش بھی کرتا ہے یہ طاقتیں اس کا دشمن بن بیٹھتی ہیں اور یہ کبھی نہیں چاہتیں کہ کوئی اسے آئینہ دکھائے۔ کوئی بھی شخص اپنا کریہہ چہرہ سیشے میں دیکھنا پسند نہیں کرتا ہے اس لئے وہ آئینہ ہی کو بھلا برا کہنے لگ جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آئینہ تو آئینہ ہے اس برائی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہی حال اس وقت امریکہ کا ہے وہ زوال پذیر اپنی طاقت کی شان میں کچھ سننے کو تیار نہیں ہے۔ اسی لئے وہ وکی لیکس پر چراغ پا ہے۔
وکی لیکس نے امریکی مطالبوں، دھمکیوں اور درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عراق سے متعلق اپنے چار لاکھ خفیہ دستیاویزات کا افشا کیا ہے۔ ان کا تعلق یکم جنوری ۲۰۰۴ سے لیکر۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ تک کے درمیان کا ہے۔ اس دوران عراقیوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کا جائزہ لیا گیا ۔ ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ کس طرح وہاں عراقی قیدیوں کو جیل خانہ میں بجلی کے جھٹکے دئے گئے۔ ڈرل مشینوں سے ان کے جسموں میں سوراخ کرنے کے علاوہ خفیہ اور دیگر اعضاء کاٹنے کے واقعات انجام دئے گئے۔ ولی لیکس نے اپنے دستاویزات میں کہا ہے کہ ۲۰۰۳ میں عراق کی جنگ میں ایک لاکھ نو ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں ۶۶ ہزار اکیاسی عام شہری تھے۔ اس کے مطابق امریکہ کے پاس عام شہریوں کی ہلاکت کا ریکارڈ موجود تھا لیکن اس نے نہ صرف اپنی آنکھ بند رکھی بلکہ اس سے بھی قطعی انکار بھی کرتا رہا۔ دستاویزات کے مطابق امریکی فوجیوں کو ا ن تمام مظالم کے بارے میں علم تھا لیکن وہ اسے نظر اندا کرتی رہی۔ وکی لیکس کے دستاویزات عراقی شہریوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک سے لے کر ان کے جسموں پر تشدد کے مختلف طریقے اختیار کرنے کی نشاہدہی کرتی ہیں۔
وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانگ نے سی این این ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یہ دستاویزات ایک خون ریزی اور قتل عام کا پتہ دیتی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دستاویزات عراق کی جنگ کے چھ سالوں کے زمینی حقائق کی تفصیلات افشا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق عراق کی جنگ میں جتنے افراد کاناحق خون بہا ہے تعداد میں جنگ افغان سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات عراق کی جیلوں میں قیدیوں کئے گئے سلوک کو بیان کرتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں میں درجنوں قیدیوں کو کس طر ح بھر کررکھاجاتاہے، ان کے ہاتھ کمر سے بندھے ہوتے ہیں۔ جسم پر سگریٹ سے جلانے کے نشان ہیں، انہیں گھنٹوں گھٹنوں کے بل بیٹھایا جاتا ہے۔ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے۔ بہت سے قیدی علاج کی سہولت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیتے ہیں۔ دستاویزات میں بہت ساری خفیہ اجتماعی قبر کی بات کہی ہے۔ دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر نے فروری ۲۰۰۷ میں بغداد میں امریکی فوج کے اڈے پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کو اس وقت گولیوں سے بھون دیا تھا جب وہ ہتھیار ڈال رہے تھے۔ اس کارروائی میں حصہ لینے والے ہیلی کاپٹر کا عملہ دو صحافیوں کے قتل میں بھی ملوث تھا۔
امریکی حکام سمیت عراقی اقتدار اعلی کی نیند اڑ گئی ہے۔ خاص طور پر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی بہت پریشان نظر آرہے ہیں۔ ان مظالم کے لئے جتنا ذمہ دار امریکہ ہے اتنا ہی ذمہ داری نوری المالکی بھی ہے۔ کوئی بھی ملک کا وزیر اعظم اپنے شہریوں کو اس قدر ہلاک ہوتے کیسے دیکھ سکتا ہے۔ عراقی وزیر اعظم ان دستاویزات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جہاں ان دستاویزات کے افشا کی مذمت کی ہے وہیں انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ملک میں حکومت ساز ی کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ عراق میں رواں سال کے مارچ میں الیکشن ہوا تھا لیکن کسی پارٹی واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے آج تک حکومت کی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ نوری المالکی بطور امریکی پٹھو وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عراق میں ان دستاویزات کے افشاء سے کسی کو حیرت نہیں ہوئی ہے البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ ملک میں سیاسی شعلوں کو مزید ہوا دے دی ہے۔
وکی لیکس نے اس سے قبل افغانستان میں خفیہ دستاویزات شائع کئے تھے جس سے امریکی ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا تھا حالانکہ امریکہ دستاویزات شائع نہ کرنے کی درخواست کی تھی لیکن ولی لیکس نے سے نظر انداز کرتے ہوئے خفیہ دستاویزات افشا کردئے تھے۔ جس میں یہ بتایا کہ کس طرح امریکی فوجیوں نے افغان شہریوں کو وہلاک کیا اور پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کس طرح ملوث ہے۔
امریکہ نے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے عراق جیسے مہذب اور خوش حال کوملک کھنڈرات کا مجموعہ بنادیا ہے۔ عراق پر جن تباہ کن ہتھیاروں کے ذخیرے کے الزامات لگائے گئے تھے وہ غلط ثابت ہوئے ۔ آج عراق بھوکوں ، ننگوں، بیماروں اور انتہائی پسندہ قوم کا ملک ہے ۔ جہاں بنیادی سہولت کی ہر جگہ فقدان نظر آتاہے۔ پینے کا صاف پانی، رہنے کو چھت، روزگار کی عدم دستیابی اژدہے کی طرح کھڑی ہے۔ عراق آج نفسیاتی مریضوں کا ملک ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں پانچ لاکھ بچے اس جنگ سے متاثر ہوئے۔ ۱۹۹۰ کے خلیجی جنگ اور پھر ۲۰۰۳ میں جمہوریت بحال کرنے کے نام پر پورے عراق کو تخت و تاراج کیا گیا۔ عراق پر امریکی حملہ نے عراقی بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اور ماں کی شفقت کو چھین لیا۔ جو ملک ترقی یافتہ ملک کے قطار میں تھا وہ تیسری دنیا کے ملکوں سے بھی بدتر صورت حال سے دوچار ہے ۔ جہاں غربت نے اس قدر قہر ڈھایا ہے کہ وہاں کی باحیا غیرت مند خواتین چند سکوں کے لئے جسم فروشی کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔عراق آج بیواؤں کا ملک بن گیا ہے۔ یقیناً اس کا سہرا وزیر اعظم نور المالکی اور ان کے حامیوں کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے امریکی نوازی میں عراق کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ وہاں صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ اس کا صحیح طریقے سے اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں ۲۰ لاکھ بچے خوراک249 تعلیم 249 تشدد 249 بیماریوں اور جنسی استحصال جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اس کی رپورٹ کے مطابق عراقی بچے اپنے ملک میں جاری خانہ جنگی249عدم استحکام اور ہنگامہ آرائی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۷ میں سینکڑوں بچے ہلاک ہوئے جب کہ امریکی حمایت یافتہ عراقی حکام نے ایک ہزار تین سو پچاس بچوں کو حراست میں لیا۔ اس تشدد کے خوف سے ہر ماہ پچیس ہزار سے زائد بچے اور ان کے خاندان اپنا گھر و بار چھوڑ عراق کے دوسرے علاقے یا دوسرے ملک میں ہجرت کرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں خواتین اور بچوں کی صورت حال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ عراقی لڑکیاں جسم فروشی جیسے مخرب اخلاق پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں اور عراقی بچے سیاحوں کے ہوس کا شکار ہورہے ہیں۔کسی ملک کی تباہی، انسانوں کا قتل عام، شہری سہولیات پر ضرب کاری اور ملک کے تمام ڈھانچے کو برباد کرنے کو ملک میں جمہوریت بحالی کہتے ہیں تو ایسی جمہوریت سے توبہ کرنا چاہئیے۔
امریکہ نے اپنے اثر رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے وکی لیکس کے بانی جولین آسنگ پر زمین تنگ کرنا شروع کردیا ہے لیکن شاید امریکہ یہ بھول گیا ہے کہ اس طرح کی حرکت سے کسی کو تھوڑی دیر کے لئے روکا جاسکتا ہے ،پریشان کیا جاسکتا ہے لیکن عزم میں کمی نہیں لاسکتا۔اس سے ان جیسے درجنوں لوگوں کے حوصلوں میں مزید ابال آئے گا اور درجنوں جولین پیدا ہوں گے جو امریکی اور صیہونی جبر و تشدد کا آشکارا کریں گے۔ مہذب ملک ہونے کا انہوں نے جو مکھوٹا پہن رکھا ہے نقاب پلٹ کر ان کا وحشیانہ چہرہ دنیا کے سامنے لائیں گے۔
تمام شواہد اور دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات اور اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے عراق اور افغانستان کو تخت و تاراج کرنے کے لئے حملہ کیا تھا۔ورلڈ ٹریڈ ٹاورکے جس حملے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کی بات کہی جارہی ہے اگر ہم اسے سچ مان بھی لیں توجب امریکہ اپنے تین ہزار شہریوں کی ہلاکت کے لئے کسی ملک کے لاکھوں انسانوں کا قتل کرسکتا ہے اورملک کو تباہ کرسکتا ہے تو اب جب کہ یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ عراق میں کوئی مہلک ہتھیار نہیں تھا یہ سب جونےئر بش کی منصوبہ بندی تھی جس کا ساتھ برطانیہ کے امریکی دم چھلا سابق وزیر اعظم ٹونی بلےئر دے رہے تھے،تو اب اس جرم کے لئے دونوں ممالک کو کتنی سزا دینی چاہئے۔ وکی لیکس کی دستاویزات سے یہ بات بھی صاف ہوچکی ہے کہ برطانیہ نے نہ صر ف جرم میں امریکہ کا ساتھ دیا بلکہ اس کی فوج نے عراق میں غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک انجام دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جب سوڈان کے صدر کو کو خانہ جنگی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کا سہارا لے کر جنگی جرائم کامرتکب قرار دے کر سزا سنایا جاسکتا ہے تو پھر دونوں ملکوں کے سابق صدر جارج واکر بش اور سابق وزیر اعظم ٹونی بلےئر کو کیوں نہیں؟۔جب تک دونوں ملکوں کو سزا نہیں دی جائے گی اس وقت عالمی انصاف کا تقاضہ پورا نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی عالمی عدالت کا وجود کسی ڈھکوسلہ سے کم نہیں ہوگا۔
D-64/10 Abul Fazal Enclave Jamia Nagar, New Delhi- 110025
Mob. 9810372335,
abidanwaruni@gmail.com
abid.anwar@yahoo.co.in